بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ٹیکس سے بچنے کی تدبیر کرنا


سوال

آج کل مال مویشی کے منڈی میں جانور کا سودا طے کرنے کے بعد مشتری بائع سے کہتا ہے،کہ یہ جانور کسی طریقے سے منڈی سے باہر نکال دیں،تاکہ میں ٹیکس سے بچ جاؤں،شرعا اس طرح جانور کو بغیر ٹیکس کے منڈی سے باہر نکالنا کیسا ہے؟اس مسئلہ میں زید کا مؤقف یہ ہے کہ بائع اور مشتری  کا یہ فعل ناجائز ہےاس کی وجہ سے قربانی کے ثواب پر بھی اثر پڑتا ہے،اور قیامت کے دن اس رقم کے بارے میں پوچھ ہوگی،جبکہ بکر کا مؤقف یہ ہےکہ ان دونوں حضرات کےاس فعل سے قربانی کے ثواب پر کچھ اثر نہیں پڑتا ہے،اور نہ قیامت کےدن اس پر کوئی مؤاخذہ ہوگا،کیونکہ منڈی میں صرف سودا طے ہوا ہے،اور باقاعدہ عقد بین البائع والمشتری منڈی سے باہر ہوا ہے جمہور فقہاے احناف  کے نزدیک ان دونوں میں سے کس کا مؤقف درست ہے؟

جواب

           مویشیوں کی منڈی جو اکثر سرکاری زمین پر ہوتی ہے حکومت اس میں پانی ،سایہ اور حفاظت وغیرہ مختلف سہولیات کا انتظام کرتی ہے،اور اس کے بدلے حکومت تاجروں سے ٹیکس لیتی ہے وہ اجرت کے حکم میں داخل ہو کر اس کا لینا جائز ہے،اور ایسے تمام جائز امور میں حکومت  کی فرمانبرداری ضروری ہے، البتہ  اگرمشتری نے  منڈی کے اندرجانور  دیکھا ہو اورپسند بھی آیا ہولیکن کسی وجہ سے مشتری اور بائع کے درمیان اتفاق نہ ہو،اور وہی جانور مشتری منڈی سے باہر دیکھ لے اوربیع پر بائع اور مشتری کا اتفاق بھی آجائے تو اس صورت میں ٹیکس  نہ دینے سے حکومت کی حق تلفی نہیں ہوگی۔

            صورت مسئولہ میں اگر باقاعدہ عقد منڈی کے اندر ہوا ہو،اور صرف حوالگی باہر ہوئی ہو،تو اس صورت میں ٹیکس دینا ضروری ہے،البتہ ٹیکس نہ دینے کی وجہ سے بیع ناجائز نہیں ہوتی،اور نہ ہی قربانی پر کوئی اثر پڑتا ہے۔

 

(وأما بيان) (أنواعها) فنقول إنها نوعان: نوع يرد على ‌منافع ‌الأعيان كاستئجار الدور والأراضي۔(الفتاوی الهندية، الباب الاول في بيان تفسيرالإجارة و أركانها، ج:1، ص:411)

(قوله: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ‌ولا ‌تجوز ‌مخالفته ۔۔۔ وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة۔  (الدرالمختار مع رد المحتار، مطلب طاعة الإمام واجبة، ج:5، ص: 422)


فتویٰ نمبر : 4885/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں