بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

کرسمس کے موقع پر مسلمان ملازمین کو دیے جانے والے کھانے، تحائف قبول کرنے کا حکم


سوال

زید عیسائیوں کی کمپنی میں جہاز میں کام کرتا ہے 25 دسمبر کو وہ کرسمس مناتے ہیں جس میں تحفے بھی دیتے ہیں اس دن کھانا بھی اچھا ہوتا ہے ، اب دریافت یہ کرنا ہے کہ اس دن کھانا تحفہ لینا  کیسا ہے ؟

جواب

       شرعی نقطہ نظر سے غیر مسلموں کےکھانے کھانااور ان سے ہدایا اور تحائف قبول کرنے میں فی نفسہ کوئی حرج نہیں، البتہ اگر ان سے کھانے اور تحفے تحائف قبول کرنے سے غیر مسلموں کی عظمت و محبت دل میں پیدا ہوتی ہو یا کھانے اورتحائف قبول کرنے سے ان کے مذہبی تہوار کی تعظیم مقصود ہو تو پھر ان کھانوں اورتحائف کا قبول کرنا شرعاًجائز نہیں ،لیکن اگر مذہبی تہوار کے موقع پر دیے جانے والےکھانے اور  تحائف کے قبول کرنے سے نہ تو اس دن تہوار کی تعظیم مقصود ہو  اور نہ ہی اس کی وجہ سے غیر مسلموں کی عظمت و محبت دل میں پیدا ہوتی ہو ،بلکہ معاشرتی طور پر باہمی مروت کے طور پر ایک دوسرے سے کھانے اورتحائف قبول کیے جائیں تو شرعاً اس کی گنجائش ہے،بلکہ بعض معاشروں میں نفرت مٹانے کے لیےاس کو  حسن معاشرت کی نشانی سمجھاجاتا ہے جس کا مسلمان زیادہ حقدار ہے چنانچہ وہاں کھانے اور تحائف قبول کیے جاسکتے ہیں۔

         صورت مسئولہ کے مطابق کرسمس ڈے کے موقع پر کمپنی کی طرف سے زید کو جو کھانے اور تحفے دیے جاتے ہیں تو ان کے قبول کرنے اور استعمال کرنے کی شرعاً گنجائش ہے،بشرط یہ کہ تحفہ میں دی جانے والی چیز فی نفسہ حلال ہواور اس کی وجہ سے مسلمان کے دل میں غیر مسلموں کے تہوارکی تعظیم یا محبت پیدا نہ ہو۔

 

عن أبي برزة الأسلمي، أنه كان له سكان مجوس فكانوا يهدون له في النيروز والمهرجان , فيقول لأهله: ما كان من فاكهة فاقبلوه , وما كان سوى ذلك فردوه۔(المصنف لابن لأبي شيبه،كتاب السير،باب ما قالوا في طعام المجوس وفواكههم،ج17،ص415)

وجئنا إلى صلة المشرك المسلم فقد روى محمد رحمه الله تعالى في السير الكبير أخبارا متعارضة في بعضها أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قبل هدايا المشرك وفي بعضها أنه صلى الله عليه وسلم لم يقبل فلا بد من التوفيق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ومن المشايخ من وفق من وجه آخر فقال لم يقبل من شخص علم أنه لو قبل منه يقل صلابته وعزته في حقه ويلين له بسبب قبول الهدية وقبل من شخص علم أنه لا يقل صلابته وعزته في حقه ولا يلين بسبب قبول الهدية كذا في المحيط ۔(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الرابع عشرفي أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم،ج5 ص348)

ويأتي به المجوس في نيروزهم من الأطعمة إلى الأكابر والسادات من كانت بينهم وبينهم معرفة ذهاب و مجيء فقد قيل إن أخذ ذلك على وجه الموافقة لفرجهم يضر ذلك بدينه وإن أخذه لا على ذلك الوجه لا بأس به والإحترازعنه أولى۔(الفتاوى التا تارخانية،كتاب المرتدین،الفصل الحادي عشر في الخروج إلي النشيدة والذهاب إلى ضيافةالمجوس،ج7 ص348)


فتویٰ نمبر : 4901/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں