بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

بغیراحرام کےمیقات سےگزرنا


سوال

میں پاکستان سےعمرہ کےلیےجارہاہوں،مگرمیقات سےبغیراحرام کےاس لیے گزرتاہوں کہ ریاض شہرمیں قرنطینہ میں کئی دن گزاروں گا،اورقرنطینہ میں احرام کی پابندیوں کاخیال نہیں رکھ سکتا،توکیااس عذرکی وجہ سےمیں بغیراحرام کےمیقات سےگزرسکتاہوں؟

جواب

               واضح رہےکہ میقات کےباہرسےحج،عمرہ یاکسی بھی کام سےمکہ مکرمہ جانےوالوں کےلیےاہلِ آفاق کی میقات پربغیراحرام کےگزرناجائز ہے،البتہ حدودِحرم سےبغیراحرام کےگزرناجائزنہیں۔

            صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرکوئی شخص عمرہ کی نیت سےمکہ مکرمہ جاناچاہتاہو،اورریاض شہرمیں کچھ دن قرنطینہ کےطورپرگزاررہاہو،توریاض شہر چونکہ حدودِ حرم سےباہرہے،اس وجہ سےاس صورت میں مذکورہ شخص اگرجہازوغیرہ میں حدودِ میقات سےگزرتےہوئےریاض جارہاہو،تب بھی اس کےلیےبغیراحرام کےجاناجائزہے۔

 

والأصل فيه أن كل من قصد مجاوزة ميقاتين لا يجوز إلا بإحرام ، ومن قصد مجاوزة ميقات واحد حل له بغير إحرام .

بيانه:أن من أتى ميقاتا بنية الحج أو العمرة أو دخول مكة لحاجة لا يجوزدخوله إلا بالإحرام ، لأنه قصد مجاوزة ميقاتين ميقات أهل الآفاق ، وميقات أهل الحل .والحيلة لمن أراد من الآفاقي دخوله بغير إحرام أن يقصد بستان بني عامر أو غيره من الحل فلا يجب الإحرام، لأنه قصد مجاوزة ميقات واحد .(العنایةشرح الھدایة،کتاب الحج،ج2ص13)


فتویٰ نمبر : 8992/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں