بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 19/10/2026 |
دارالافتاء
فقرااور اغنیاکی مشترکہ قربانی کے گم ہوکر دوبارہ ملنے پر اس کی قربانی کا حکم
سوال
زید کے ساتھ چھ افراد بڑے جانور کی قربانی میں شریک تھے،جن میں سے پانچ افراد صاحب نصاب تھے اور دوافراد غیر صاحب نصاب تھے ،جو ثواب کی نیت سے قربانی کرناچاہتے تھے۔عید الاضحیٰ سے ایک دن پہلے یہ جانور بھاگ کر گم ہوگیا عید اورتیسرے دن ان حضرات نے قربانی کے لیے ایک دوسرا جانور خریدکر ذبح کردیا جبکہ عید کے تیسرے دن ظہر کے بعد وہ پہلا جانوربھی مل گیا تو ایسی صورت میں اس جانور کا کیا حکم ہے؟
اس بارے میں یہاں کے کچھ حضرات کہتے ہیں کہ اس جانور کو فروخت کرکے جو حضرات صاحب نصاب ہیں ان کو رقم واپس کردی جائے کیونکہ ان پر صرف ایک قربانی واجب ہے اور جو صاحب نصاب نہیں ہے وہ یہ رقم لے کر صدقہ کرے کیونکہ ان پر دونوں قربانیاں واجب ہوگئی تھیں، دوسری رائے یہ ہے کہ یا تو یہ جانور کسی غریب کو دیدے یا فروخت کرکے یہ رقم غربا میں تقسیم کرے کیونکہ ان دو غیر صاحب نصاب شرکا کی وجہ سے سب پر یہ قربانی بھی واجب ہوچکی ہے۔جمہور فقہائے احناف کے نزدیک محقق بات کیا ہے؟تحقیقی جواب دے کررہنمائی فرمائیں ۔
جواب
واضح رہےکہ اگر مال دار آدمی سے قربانی کا جانور گم ہو جائےاور وہ اس کی جگہ دوسرا ذبح کر دے تو بعد میں اگرپہلا جانور مل جائے تو اس کی قربانی واجب نہیں ،البتہ اگر وہ جانور ایام نحر میں ہی مل جائےتو اس کو بھی استحبابا ذبح کر سکتا ہے ،اس کے برعکس اگر غریب کا جانورگم ہو جائےتو اس سےقربانی ساقط ہو جائے گی البتہ قربانی کے دنوں میں گم شدہ جانور ملنے کے بعد اس کی قربانی واجب ہو گی ،اسی طرح اگردوسرا جانور خرید کرپہلے کی جگہ اس کو ذبح کر لیا اور ایام نحر ہی میں وہ پہلے والا بھی مل گیا تو اس پراس جا نورکاذبح کرنا ضروری نہیں ہو گا ،کیونکہ غربا کے حق میں یہ قربانی بمنزلہ نذرکے ہےاورنذر میں اگر کوئی چیز متعین کر دی کہ فلاں چیز دوں گا تو بعینہ اسی چیزکا دینا لازم نہیں بلکہ اس کی قیمت کے برابرنقدی یا کوئی دوسری چیز بھی دے سکتا ہے۔
مسئولہ صورت میں اگر پہلا جانور مل گیا ہے اور تمام شرکا اس کی قربانی پر راضی ہیں تو بہتر یہی ہے کہ اس کی بھی قربانی کر دی جائے ،البتہ اگر ایک مرتبہ قربانی کے بعد دوبارہ نہ کرناچاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے کہ اس جانور کو فروخت کر کے رقم تقسیم کر دیں تاہم اگر فقرا نے دوسری قربانی کو الگ سے اپنے اوپر واجب کی ہو اور پہلی قربانی کا بدل قرار نہ دیا ہو تو پھر اپنے حصوں کے بقدر رقم کو صدقہ کریں گے۔
وإن كان المشتري فقيراً ذكر شيخ الإسلام خواهر زاده في شرح كتاب الأضحية أن في ظاهر رواية أصحابنا تصير واجبة للأضحية.وروى الزعفراني عن أصحابنا: أنها لا تصير واجبة وإلى هذا أشار شمس الأئمة السرخسي رحمه الله في «شرحه» ، وذكر شمس الأئمة الحلواني في «شرحه» : أن في ظاهر رواية أصحابنا لا تصير واجبة الأضحية، وذكر الطحاوي في «مختصره» : أنها تصير واجبة، وأما إذا صرح بلسانه وقت الشراء أنه اشتراها ليضحي بها، فقد ذكر شمس الأئمة الحلواني أنها تصير واجبة.ذكر الزعفراني في أضاحيه: رجل اشترى أضحية، فأوجبها للأضحية فضلت عنه، ثم اشترى مثلها، وأوجبها أضحية، ثم وجد الأولى قال: إن كان أوجب الأخرى إيجاباً مستأنفاً، فعليه أن يضحي بهما، وإن كان أوجبها بدلاً عن الأولى، فله أن يذبح أيهما شاء، ولم يفصل بين الغني والفقير.(المحيط البرهاني،الفصل الثاني في وجوب الأضحية بالنذر،ج:6،ص:87)
وفي ظاهر الرواية يتعين للأضحية بالشراء؛ لأن الشراء من الفقير بنية الأضحية بمنزلة النذر عرفا، وعادة؛ لأنا لا نجد في العرف فقيرا اشترى شيئا للأضحية إلا ويضحي بها لا محالة فكان بها ملتزما۔(تبيين الحقائق،كتاب الأضحية،ج:6،ص:478)
ولو ضلت أو سرقت فشرى أخرى فظهرت فعلى الغني إحداهما وعلى الفقير كلاهما۔(الدرالمختارعلى صدرردالمحتار،كتاب الأضحية،ج:9،ص:371)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں