بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ٹیچر کی تنخواہ کو تین کاموں کی تکمیل کے ساتھ مشروط کرنا


سوال

بحمد اللہ تعالی ہمارا ایک اسلامک اسکول ہے۔ہم اپنے اسٹاف )اساتذہ) کے ساتھ تقرری  کے وقت ایک معاہدہ کرتے ہیں جس میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ انکی تنخواہ  تین حصوں میں منقسم ہوگی، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:(1) تنخواہ کا 50 فی صد تدریسی نصاب کی تکمیل سےمشروط ہوگا۔(2) 25فی صدطلبہ کی کاپیوں کی بروقت تصحیح سےمشروط ہوگا۔(3) اور بقیہ 25 فی صدتدریسی سال کی تکمیل سےمشروط ہوگا۔مثلا ،اگر استاذ رواں تدریسی سال مکمل کیے بغیر درمیان میں ملازت ترک کردے تو اسکول ۲۵ فی صد تک تنخواہ کاٹ سکتا ہے۔ اس کٹوتی کا ایک طریقہ تویہ ہے کہ ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی کے وقت حساب لگایا جاتا ہے۔جبکہ دوسرا طریقہ مندرجہ ذیل ہے: اساتذہ کے ساتھ معاہدے میں یہ بات طے کی جاتی ہے کہ ملازمت کے آغاز میں انکی ایک ماہ کی تنخواہ بطور  Security Deposit   (ضمانت) رکھی جائے گی جو انہیں ملازمت کے اختتام میں ادا کی جائے گی بشرطیہ کہ استاذ ملازمت کے یہ تین اہم امور پورے کر چکے ہوں۔اگر استاذ ملازمت ترک کر دے جبکہ رواں تدریسی سال مکمل نہ کیا ہو یا نصاب مکمل نہ کروایا ہو  یا کاپیوں کی تصحیح نہ کی ہو تو اسکول اس  Security Deposit  (ضمانت) میں سے حساب کے مطابق کٹوتی کرتا ہے۔شرعی  نقطہ نظر  سے اس صورت مسئلہ  کا حکم   بیان کریں۔

جواب

             واضح رہے کہ جب کسی اجیر (اجرت پر کام کرنے والے) کے ساتھ وقت کے علاوہ کسی مخصوص کام کی انجام دہی کا معاہدہ بھی کیا جائے، اور اجرت کو اسی کام کی تکمیل کے ساتھ مشروط کیا جائے، تو صاحبین رحمھم اللہ  کے ہاں یہ عقد عمل پر ہوتا ہے، لہذا عمل سر انجام دینے پر ہی اجیر اجرت کا مستحق قرار پاتا ہے۔

          صورت مسؤلہ کے مطابق اگر  ادارے کا ضابطہ یہ ہو کہ وہ  اساتذہ کی  تنخواہ کوتدریسی نصاب کی تکمیل اور کاپیوں کی بروقت تصحیح کے ساتھ   مشروط کرتا ہے،اور فرائض کی  عدم تکمیل کی صورت میں تنخواہ کاٹتا ہے،  توعمل میں کوتاہی کی بناء پر  یہ  جائز ہے، بشرط یہ کہ منصفانہ کٹوتی ہو،  اسی طرح  تدریسی سال کی تکمیل کی شرط لگانا تعلیمی اداروں میں بچوں کے اوقات کو ضائع  ہونے سے بچانے کے لیے  مصلحت عامہ کا تقاضہ ہے، اور آج کل عرف میں بھی رائج ہے، اس لیے اس کی بھی گنجائش ہے۔ البتہ سیکورٹی کی مد میں جو رقم ادارہ اپنے پاس رکھتا ہے، تو یہ  ادارہ کے ذمہ قرض ہوگا، لہذا اگر استاد ادارے کے ضابطہ کے مطابق ذمہ داریاں پوری  کرکے ادارہ چھوڑنا چاہے، تو ادارہ ضمانت کی پوری رقم کی واپسی کا پابند ہوگا، البتہ اگر استاد معاہدے  کی خلاف ورزی کرکے   کوئی کام ادھورا  چھوڑ جائے،  تو ادارہ زرِ ضمانت میں  سے منصفانہ  کٹوتی کا  حقدار ہے،  جب کہ  بقیہ رقم کی واپسی ادارہ کےذمہ لازم ہوگی۔

 

(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الاجارة، باب ضمان الأجير، ج:9،ص:94)

إذا استأجر رجلا يوما ليعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة۔(الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الثالث الأوقات التي يقع عليها عقد الإجارة، ج:4، ص:447)

(ومما يتصل بهذا الفصل إذا جمع في عقد الإجارة بين الوقت والعمل) إذا استأجر رجلا ليعمل له عملا اليوم إلى الليل بدرهم صباغة أو خبزا أو غير ذلك فالإجارة فاسدة في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وفي قولهما يجوز استحسانا ويكون العقد على العمل دون اليوم( الفتاوی الھندیة، کتاب الاجارۃ، الباب السادس فى الإجارة على أحد الشرطين أو أكثر، ج4، ص:455 )

الإجارة بعد ما انعقدت صحيحة لا يسوغ للآجر فسخھا (المجلة لسليم رستم باز، کتاب الإجارۃ، المادۃ:441،ص:245)


فتویٰ نمبر : 2942/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں