بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

بغیر ڈیوٹی کے تنخواہ لینا


سوال

اگرآدمی کی ڈیوٹی کسی ایسے سکول میں  ہو جہاں  کوئی پڑھ بھی نہ رہا ہو اور  وہ  سکول ایسے دیہات میں ہو کہ لوگ سال میں 2 یا3 ماہ  صرف وہاں  رہتے ہوں تو وہاں بغیر ڈیوٹی کے تنخواہ لینا کیسا ہے۔

جواب

 

              تنخواہ دار ملازم اجیرِ خاص کے زمرہ میں شمار ہوتا ہے جس کو ایامِ عمل اور اوقاتِ عمل میں حاضر رہنے کی اجرت  دی جاتی ہے  اگر چہ مذکورہ اوقات میں اس کو کام کی بالکل نوبت ہی پیش نہ آئے ۔

                لہذا صورت مسئولہ میں اگراستاد سکول میں ڈیوٹی دینے  کے بغیر سکول سے تنخواہ لے رہا ہو تو اس کی یہ تنخواہ جائز نہ ہو گی۔

 

الأجیر الخاص یستحق الأجرۃ إذا کان فی مدۃ الإجارۃ حاضراً للعمل۔ (شرح المجلة لسلیم رستم باز، الكتاب الثاني في الا  ص:239)

والثاني وهوالأجیر الخاص ویسمی أجیر وحد وهو من یعمل لواحدٍ عملاً موقتاً بالتخصیص ویستحق الأجر بتسلیم نفسه في المدة وإن لم یعمل کمن استؤجر شهراً للخدمة أو شهراً لرعي الغنم المسمی بأجر مسمی۔ (الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الاجارة، باب ضمان الأجير، ض:9، ص:95)


فتویٰ نمبر : 2945/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں