بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

کمزور یاداشت والے شخص کی زکوٰۃ کا حکم


سوال

ایک عمر رسیدہ عورت جس کی یادداشت  بوجہ عمر کے بڑھ جانے کے اس قدر کمزور ہو گئی ہے کہ اس کی باتوں میں کوئی ربط نہیں، اسی طرح نماز پڑھنے کے بعد اس کو یاد نہیں رہتا کہ پڑھی ہے یا نہیں  ،اسی طرح  پیسوں کا حساب کتاب بھی نہیں کرسکتی جبکہ وہ صاحب نصاب بھی ہے البتہ اپنی اولاد کی پہچان با آسانی کر سکتی ہے۔ کیا ایسی عورت پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ اگر واجب ہے تو اس کی ادائیگی کس طرح کی جائے گی ؟

جواب

            واضح رہے کہ زکوۃ ہر اس عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے جو صاحب نصاب ہو اور جب تک کسی شخص کی عقل کام کر رہی ہو تو وہ زکوۃ دینے پر مکلف ہےتاہم اگر وہ عمر کی اس حد تک پہنچے کہ  اسکا دماغ کام چھوڑ دے اور حالت جنون طاری ہو جائے تو پھر اس پر زکوۃ واجب نہیں۔ 

             صورت مسئولہ کے مطابق کسی  عورت  کی یادداشت کا کمزور ہونا وجوب زکوۃ سے مانع نہیں لہذا اگر وہ صاحب نصاب ہو تو اس پر زکوۃ فرض ہو گی البتہ خود حساب کتاب نہ کر سکنے کی صورت میں وہ کسی کو زکوۃ کے حساب اورادائیگی کے لیے  وکیل مقرر کر لے  جو زکوۃ کا حساب کتاب کر کے اس کی ادائیگی یقینی بنائے ،اس سے  ذمہ فارغ ہو جائے گا۔

 

  وأما شروط وجوبها فمنها الحرية ... ومنها الإسلام ... ومنها العقل والبلوغ فليس الزكاة على صبي ومجنون إذا وجد منه الجنون في السنة كلها هكذا في الجوهرة النيرة... ومنها كون المال نصابا ... ومنها الملك التام ... ومنها فراغ المال ... ومنها الفراغ عن الدين... ( الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:233-234)

يجوز النيابة في العبادات المالية مطلقا ولا تجوز في البدنية بحال وفي المركب منهما كالحج يجوز عند العجز لا القدرة. (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، كتاب الحج، باب الحج عن الغير، ج:1، ص:307)

  إذا وكل رجلا بدفع زكاة ماله ونوى المالك عند الدفع إلى الوكيل فدفع الوكيل بلا نية فإنه يجزئه؛ لأن المعتبر نية الآمر؛ لأنه المؤدي حقيقة. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الزكاة، شروط وجوب الزكاة، ج:2، ص:368)


فتویٰ نمبر : 8996/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں