بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

ایک شخص کی زمین پر دوسرے کا عمارت بنا کر دونوں کامنافع لینا


سوال

میری ملکیت میں تینتیس مرلہ زمین ہے۔ میں نے دوسرے شخص کے ساتھ یہ معاہدہ طے کیا ہے کہ وہ میرے اس پلاٹ میں تعمیر کرےگا، پھر متعین عرصہ مثلاً: دس، پندرہ سال تک اس سے حاصل ہونے والے منافع دونوں مابین مشترک ہوں گے۔ اس عرصہ کے گزرنے کے بعد  میں(مالکِ زمین) اس دوسرے شخص کو اتنے پیسے ادا کروں گا جتنے اس نے بلڈنگ  کی تعمیر میں لگائے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا یہ معاملہ درست یا نہیں؟ نیز ہمارے لیے اس دوران حاصل ہونے والے منافع حلال ہیں یا نہیں؟

جواب

             اگر ایک  شخص کی زمین  ہو اور دوسرا شخص اس پر اپنے سرمایہ سے  اس طور پر عمارت تعمیر کرنا چاہےکہ  عمارت کا مالک سرمایہ کارہوگااور پھر دونوں مل کر اُسے مخصوص مدت تک کرایہ پر دیں گے اور  اس سے حاصل ہونے والا کرایہ دونوں آپس میں تقسیم کریں گے  تو شرعاً یہ  جائز ہے، البتہ عمارت کا مالک  چونکہ سرمایہ کار ہے، اس  لیے اگر اس میں کسی حادثہ وغیرہ کی وجہ سے کوئی نقصان پیدا ہوجائے تو اس کا تاوان  عمارت کا مالک ہی برداشت کرے گا۔ پھر کچھ مدت کے بعد اگر دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک اس معاہدہ کو ختم کرنا چاہیں  تو اس کے لیے دو طریقے ممکن ہیں:

1-عمارت کا مالک اپنی عمارت کو ہٹا کرزمین خالی کردے۔

2- طرفین کی رضامندی سے یا مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت طے ہوجائےاور مالکِ زمین  وہ قیمت عمارت کے مالک کو ادا کر کے عمارت کا مالک بن جائے۔

            لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق سائل کا اپنی زمین دوسرےکو دے کرمعاہدہ کرنا کہ وہ اس پر عمارت تعمیر کرے اور دس،پندرہ سال تک اس سے حاصل ہونے والا کرایہ دونوں کے درمیان مخصوص تناسب سے مشترک ہوگا ،شرعاً یہ جائز ہے۔اس کے بعد جب مالک ِ زمین اس عمارت کو خریدنا چاہے تو  باہمی رضامندی سے قیمت طے کرکے عقد کرلیں گے۔

 

(و) تصح إجارة أرض (للبناء والغرس) وسائر الانتفاعات كطبخ آجر وخزف ومقيلا ومراحا حتى تلزم الأجرة بالتسليم أمكن زراعتها أم لا بحر (فإن مضت المدة قلعهما وسلمها فارغة) لعدم نهايتهما (إلا أن يغرم له المؤجر قيمته) أي البناء والغرس (مقلوعا) بأن تقوم الأرض بهما وبدونهما فيضمن ما بينهما اختيار (ويتملكه) بالنصب عطفا على " يغرم "؛ لأن فيه نظرا لهما۔قال في البحر: وهذا الاستثناء من لزوم القلع على المستأجر، فأفاد أنه لا يلزمه القلع لو رضي المؤجر بدفع القيمة لكن إن كانت تنقص بتملكها جبرا على المستأجر وإلا فبرضاه (أو يرضى) المؤجر عطفا على " يغرم " (بتركه) أي البناء والغرس (فيكون البناء والغرس لهذا والأرض لهذا) وهذا الترك إن بأجر فإجارة وإلا فإعارة، فلهما أن يؤاجراهما لثالث ويقتسما الأجر على قيمة الأرض بلا بناء وعلى قيمة البناء بلا أرض، فيأخذ كل حصته۔(الدر المختار، كتاب الإجارة، ج:9، ص:41)


فتویٰ نمبر : 2937/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں