بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

دکان کرایہ پر دیکر ایڈوانس رقم لینا


سوال

ایک دکان کا کرایہ پندرہ ہزار /15000روپیہ ہےجبکہ دکان کا مالک ایڈوانس  میں پانچ لاکھ  /500000روپیہ مانگ رہا ہے  میں نے سنا ہے کہ اس طرح کا  معاملہ کرنا سود میں  آتا ہے، کیا واقعی اس طرح کا معاملہ کرنا سود میں آتا ہے یا نہیں؟

جواب

         شریعت مطہرہ میں متعین عوض کے مقابلے میں معلوم منفعت کا معاملہ  کرنا  اجارہ کہلاتا ہے،جس میں عوض لینے والےکو مؤجر اور منفعت وصول کرنے والے کو مستاجر کہتے ہیں،مؤجر کو بعض اوقات یہ  خطرہ ہوتا ہے  کہ مستاجر  دکان  یا گھر وغیرہ کو نقصان پہنچا کر یا بجلی اور گیس وغیرہ کا بل چھوڑ کر بھاگ نہ جائے،تو وہ اس خطرہ کے پیش نظرمستاجر سے ایڈوانس رقم لیتا ہے، یہ ایڈوانس رقم لینا ان کیلئے جائز ہے،البتہ اگرمستاجر نےایڈوانس رقم کو اس شرط کے ساتھ مشروط کیا ہو کہ اس کی وجہ سے موجرکرایہ میں معروف ریٹ سےکمی کرےتو سود ہونےکی وجہ سےیہ جائز نہیں ہے۔

         صورت مسئولہ میں دکان کےمالک کا ایڈوانس  پانچ لاکھ/500000روپیہ کا مطالبہ کرنا جائز ہے،لیکن اگرمستاجر نے ایڈوانس رقم کو اس شرط کےساتھ مشروط کیا ہو،کہ اس کی وجہ سے  دکان کا مالک کرایہ میں معروف کرایہ سےکمی کرے،تو سود ہونے کی وجہ سے یہ صورت جائز نہیں ہے۔

 

"الإجارة: عقد على المنافع بعوض"۔(الهدايه،كتاب الاجارت،ج:3،ص:415)

أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» (بدائع الصنائع،كتاب القرض،فصل في الشروط:ج:10۔ص:597)


فتویٰ نمبر : 2940/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں