بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

مخصوص مقدار میں وظا ئف اور اذکار کا اہتمام کرنا


سوال

 ذکر اور وظائف کے سلسلے میں جو مقدار مشائخ بتاتے ہیں اگر وہ منصوص نہ ہو تو شرعاً بدعت کے زمرے میں آئے گا یا نہیں بالخصوص جب اس کو لزوم کے ساتھ کرنے کی تاکید کی جائے؟

جواب

            واضح رہےکہ ہر وہ امر جو دین سے نہ ہو اور اس کودین سمجھ کر کیا جائے تو وہ بدعت ہے چنانچہ اگر کسی خاص عمل کو دین اور سنت کی نیت سے نہ کیا جائے تو شرعاً بدعت کے زمرے میں نہیں آتا ۔

مشائخ تجربہ کی  بنیاد  پر مخصوص منافع کے پیش نظر کسی مخصوص  طریقہ  سے اذکار اور وظائف اپنےمریدین کے لیے تجویز کرتے ہیں جو عادتا مخصوص طریقہ کے خلاف کرنے سے حاصل نہیں ہوتے یہ از قبیلہ تدبیر اور معالجہ  ہوتا ہے اور علاج کےليے اتنی بات  کافی ہے کہ شریعت سے متصادم نہ ہو ۔

لہذا مشائخ کا خاص مقدار میں وظیفہ دینا بدعت کے زمرے میں نہیں آتا  تا ہم اگر یہ  تخصیص اور لزوم اس طور پر ہو کہ اس کوسنت کا درجہ دیاجائےیا اس کے چھوڑنے کو معصیت سمجھا جائے اور اس پر نکیر اور طعن کیا جائے تو پھر یہ صورت بدعت کے زمرے میں آئے گی۔

 

ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان، وجعل دينا قويما وصراطا مستقيما۔(ردالمحتار، كتاب الصلوة، باب الامامة، ج:2، ص:299)

من سبع قرب قيل الحكمة في هذا العدد أن له خاصية في دفع ضرر السم والسحر وقد ذكر في أوائل الباب هذا أوان انقطاع أبهري من ذلك السم۔۔۔وقد ثبت حديث من تصبح بسبع تمرات من عجوة لم يضره ذلك اليوم سم ولا سحر.(فتح الباري بشرح صحيح البخاري،كتاب المغازي ،ج:8،ص:689)

الأمور بمقاصدها يعني أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر. (شرح المجلة، لخالد الٲتاسي، ماده:2 ،ج:2، ص:2)


فتویٰ نمبر : 4882/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں