بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مشترك باغ ميں عمل كرنے والے شريك كے ليےاضافی رقم کی شرط لگانا


سوال

تین بھائیوں کا مشترک باغ تھا ،جس کی آمدنی سالانہ دس لاکھ تھی، ایک بھائی کو دولاکھ کے عوض مساقات پر دیا جب کہ مذکورہ بھائی باغ میں بنفسہ شریک بھی ہے ،سال کے آخر میں دس لاکھ سے پہلے مذکورہ بھائی کیلئے دولاکھ الگ کیے جائیں گےاور بقیہ آٹھ لاکھ تینوں کے درمیان ان کے حصص کے مطابق تقسیم ہوں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ بھائی کا اپنے حصے کے ہوتے ہوئے باغ کا مساقات پر لینا شرعا کیسا ہے ؟جب کہ ایک مولوی صاحب کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے، اس بارے میں ان کا استدلال احسن الفتاوی کی درج ذیل عبارت ہے "شریک کو اجیررکھنے کا عدم جواز کسی نص شرعی سے ثابت نہیں" (احسن الفتاوی ج 7 ص 328 طبع مکتبۃ الحسن)

جواب

             واضح رہے کہ عقد مساقات میں اگر باغ عاقدین کے درمیان مشترک ہواور عمل ایک جانب سے ہو تو ایسی صورت میں اگر عامل کواس کےعمل کے عوض اس کے حصےکے علاوہ تنخواہ مقرر  کر  دی جائے  تویہ جائز ہےاور احسن الفتاوی کی مذکورہ بالا عبارت کا مطلب یہ ہےکہ کسی کاروبار میں شریک کو الگ عقد کے ذریعے بطور اجیر مقرر کرنااور کام کے بدلے تنخواہ دینا جائز ہے۔

               مسئولہ صورت کےمطابق اگر تين بهائيوں ميں سے دو نے تيسرے كو كل مشترکہ زمین مساقات پر دی ہو تو عمل کرنے والےکے لیے  اس کے حصے کے علاوہ عمل کے عوض دو لاکھ روپےبطور تنخواہ دینے کی شرط رکھنا جائز ہےالبتہ اگر شریک عامل کیلئےپہلے سے بطور تنخواہ اضافی رقم مقرر نہ کی گئی ہوتواس کے حصے  سے اضافی رقم دینا جائز نہیں ۔  

 

وقال الحافظ العيني رحمه الله تعالى: وقيل: هاهنا نظران: الأول في قوله حيث لا يجب الأجر كيف يقول لا يجب، لأنه قد وجب وقبض وهو نصف الطعام، ثم يقول لأن المستأجر ملك الأجر. والثاني في قوله لأن ما من جزء يحمله إلا وهو عامل لنفسه نظر، فإن هذا ممنوع (إلى) ولكن الحق أن الجزء اللذي لشريكه ليس هو عاملا فيه لنفسه بل لشريكه فهو فى الحقيقة عامل لنفسه وعامل لشريكه فأخذه الأجرة في مقابلة عمله لشريكه۔ (البناية شرح الهداية، كتاب الأجارة، ج:7، ص: 322)

‌إذا ‌شرطا ‌الربح ‌على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا۔ (بدائع الصنائع، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج:6، ص:62)


فتویٰ نمبر : 2943/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں