بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

امام كی اقتدامیں سورہ فاتحہ پڑھنےکاحکم


سوال

 فرض کی چار  رکعتوںمیں امام کے پیچھےدوسری اورتیسری رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا چاہیے یاپهرچپ کھڑاہوناچاہیے؟

جواب

              ائمہ احناف کےنزدیک  جماعت کےساتھ نماز پڑھنےکی صورت میں امام کےپیچھےمقتدی کےلیےکسی قسم کی قراءت کرناخواہ وہ سورہ فاتحہ ہویاکوئی اورسورت جائزنہیں، نیزنمازسری ہو یا جہری   کوئی فرق نہیں۔اس ليےفرض نمازکی تمام رکعتوں میں مقتدی کو چپ رہناچاہیے-نہ سورہ فاتحہ پڑھےاورنہ ہی کوئی اورسورت، خواہ نمازسری ہویاجہر۔

 

عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كان له إمام، فقراءة الإمام له قراءة۔ ۔ ۔

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، " إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبر فكبروا، وإذا قرأ فأنصتوا.(سنن ابن ماجه،باب اذاقرئ الامام فانصتوا،رقم الحديث846:842: ج:1، ص:61(

(والمؤتم لا يقرأ مطلقا) ولا الفاتحة في السرية اتفاقا۔۔۔(فإن قرأ كره تحريما)۔ (الدرالمختارعلی صدرردالمحتار، باب صفةالصلاة، مطلب السنة تكون سنة عين وسنةكفاية، ج:2، ص:266)

ولا يقرأ المؤتم خلف الإمام۔۔۔ولنا قوله عليه الصلاة والسلام " من كان له إمام فقراءة الإمام له قراءة "-(الھدایة، باب صفةالصلاة، فصل في القراءت،ج:1، ص:121 (


فتویٰ نمبر : 9007/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں