بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

دوران ملازمت فوت ہونے کی صورت میں دیے جانے والے مراعات میں میراث


سوال

1-ملازمت کے دوران فوت ہونے کی صورت میں قواعد کے مطابق جو مراعات دیے جاتے ہیں، شرعاً وہ کس کا حق ہے؟ کیا اس میں میرث جاری ہوگی یا نہیں؟2-ملازمت کے دوران ملازم کی تنخواہ سے جو کٹوتی کی جاتی ہے یا وہ خودکسی فنڈ یا جائیداد وغیرہ کے لیے اقساط جمع کرتا ہے تو فوتگی کی صورت میں  اس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

                شریعتِ مطہرہ کی رو سے میراث کے احکام میت کے ترکہ میں جاری ہوں گے ، یعنی وفات کے وقت جو مال میت کی ملکیت  ہو وہ ورثا میں  بقدرِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔ جو مال میت کی ملکیت نہ ہو ، بلکہ وفات کے بعد کسی پیکج یا مراعات کے طور پر ورثا میں سے کسی کودیا جائے تو وہ میراث میں تقسیم نہ ہوگا، لہذا صورتِ مسئولہ میں (1) دوران ِملازمت فوت ہونے کی صورت میں جو مراعات دیے جاتے ہیں اس میں میراث جاری نہ ہوگی ، بلکہ وہ متعلقہ ادارے کی طرف سے جس کو دیا جائے وہی اس کا حق دار ہوگا۔

2- ملازم کی تنخواہ  سے جو کٹوتی کی جاتی ہے یا ملازم خود کسی فنڈ وغیرہ کے لیے  جو اقساط جمع کرتا ہے وہ اس  کی ملکیت شمار ہوتی ہے، اس لیے ملازم کے فوت ہونے کی صورت میں وہ رقم  ورثا میں بقدرِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گی۔

 

التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال۔(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الفرائض، ج:10، ص:493)

العطايا لا يورث۔(الأشباه والنظائر،ص:495)

وتنعقد الهبة بالإيجاب والقبول وتتم بالقبض الكامل، لأنها من التبرعات والتبرع لايتم إلا بالقبض۔(شرح المجلة لسليم رستم باز، الباب السابع في الهبة، المادة: 837، ص:462)


فتویٰ نمبر : 4871/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں