بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

نابالغ وارث کے مال كو اس كے نام كرنا


سوال

اگر ورثا میں کوئی وارث نابالغ ہو تو اس کا حصہ اُسی کے نام  کیا جائےگا یااس کی ماں یا کسی دوسرے ولی کے نام  کیا جائے گا؟ نیز نابالغ  کے مال کی حفاظت اور اس میں تصرف کرنے کے لیے اُس کا  ولی کون ہوگا؟

جواب

               واضح  رہے  کہ با لغ افراد کی طرح نابالغ کو بھی اپنے مال میں ملکیت حاصل ہوتی ہے ، چاہے وہ مال اس کو میراث میں ملا ہو یا کسی دوسرے سبب سے اس کو حاصل ہوا ہو،اس لیے قانونی طور پردستاویزات  اگر نابالغ کے نام کرنا ممکن ہو اور اس میں کوئی قانونی رکاوٹ نہ ہو  تو اس کا مال اسی کے نام کردیا جائے گا،تاکہ بعد میں کسی قسم کے دعویٰ کا مکان باقی نہ رہے،البتہ نابالغ کی رعایت رکھتے ہوئے اس کا مال  اسے حوالہ کرنے کی بجائے اس کے کسی ولی کے حوالہ کیا جائے گا ، تاکہ  وہ ا س کے مصالح میں اسے خرچ کرے۔ نابالغ کے مال کی ولایت اور اس میں تصرف کرنے کا اختیار  باپ کوحاصل ہوتا ہے یا باپ نے اپنی زندگی میں جس کو  نابالغ کے مال میں تصرف کرنے کے لیے مقرر کیا ہو(جس کو "وصی " کہتےہیں )،اس کو حاصل ہوتا ہے۔ اگر باپ نے اپنی زندگی میں کسی کو وصی مقرر نہ کیا ہو تو دادا یا اس کے مقرر کردہ  وصی کو اختیار حاصل ہوتا ہے، لیکن اگر دادا بھی نہ ہو  اور اس نے کسی کو وصی بھی مقرر نہ کیا ہو تو قاضی یا قاضی جس کو مقرر کرے وہ نابالغ کا ولی متصور ہوگا۔

 

اعلم أن أسباب الملك ثلاثة ناقل كبيع وهبة وخلافه كإرث وأصالة وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة۔(الدر المختار، كتاب الصيد، ج:10، ص:47)

الولاية في مال الصغير إلى الأب ثم إلى وصيه ثم وصي وصيه ولو بعد فلو مات أبوه ولم يوص فالولاية إلى أب الأب ثم إلى وصيه ثم وصي وصيه فإن لم يكن فالقاضي ومن نصبه القاضي ۔۔۔ وليس لغير أبيه وجده ووصيهما التصرف في ماله وكذا لو وهب له فلمن هو في حجره قبضه لا إنفاقه عليه۔(بجامع الفصولين، الفصل السابع والعشرون  في تصرفات الأب ولوصي القاضي، ج:2، ص:12)


فتویٰ نمبر : 4877/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں