بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

شوہر کی وفات کے بعد بیوی کے مہر کا حکم


سوال

ایک شخص وفات پا چکا ہے،جس کے ورثا میں ایک بیوہ،ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔میت سے جو مکان وراثت میں رہ گیا ہے شادی کے وقت میت نے اس کے آدھے حصہ کو اپنی بیوی کے لیے بطور مہر مقرر کیا تھا۔اب دریافت طلب امر یہ ہےکہ مذکورہ بالا ورثامیں تقسیم میراث کیسے ہوگی کیا ترکہ کی تقسیم سے پہلے اس سے میت کی بیوی کو مہر دیا جائے گا؟

جواب

              واضح رہے کہ مہر کی ادائیگی شوہر کے ذمہ لازم ہے،اگر زندگی میں ادانہ کر سکے تو اس کے متروکہ مال سے ادائیگی کی جائے گی،اگر مہر کوئی متعین ومعلوم چیز ہو تو وہی دی جائے گی،ورنہ اس کی مثل یا قیمت دی جائے گی۔

            لہذا صورت مسئولہ میں شوہر نے بیوی کے لیے بطور مہر جو آدھا مکان مقرر کیا تھا وہ اسی کا حق ہے،لہذا وہ مال متروکہ سے الگ کرکے اس کو دیا جائے گا اور اس مکان کے آدھے حصہ کے علاوہ جو مال متروکہ رہ جاتا ہے وہ ورثا کے مابین حصص شرعیہ کے مطابق تقسیم ہوگا ،جس کی صورت درجہ ذیل ہے۔

میــــــــــــــــــــــــــــــ(24)ـــــــــت

بیوہ                    بیٹا                     بیٹی

3                      14                     7

بشرطِ صدق وثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ ورثا کے علاوہ کوئی اور قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ چوبیس(24)حصوں میں تقسیم ہوکر بیوہ کو3/24 حصے،بیٹے کو14/24 حصے اور بیٹی کو7/24 حصے ملیں گے۔

 

قال الله تعالى:﴿فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ﴾(سورةالنساء:12)

أن المهر ملك المرأة وحقها۔(بدائع الصنائع،كتاب النكاح،فصل في بيان ما يجب به المهر،ج:3،ص:519)

فلأن المسمى دين في ذمته وقد تأكد بالموت فيقضى من تركته۔(الهداية،كتاب النكاح،باب المهر،ج:2،ص:357)

لو تزوجها على شيء بعينه وهلك قبل التسليم أو استحق فإن كان ذلك من ذوات الأمثال رجعت على الزوج بالمثل وإلا فبالقيمة۔(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب التاسع في المهر،الفصل التاسع في هلاك المهر استحقاقه،ج:1،ص:316 )


فتویٰ نمبر : 3156/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں