بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

انسانی لاش بیچنا


سوال

 کیا مال اورپیسے کے بدلے کافروں کی لاش بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ مثلاً مسلمانوں کے ساتھ کافروں کے لاشیں موجود ہوں ان  لاشوں کے بدلے میں کافروں سے پیسے وصول کرناجائز ہے یا نہیں؟

جواب

             فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق انسانی بدن یا اس کے اعضاء کی خرید و فروخت کے عدمِ جواز پر امت کا اجماع ہے، خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ۔ لہٰذا  انسان کی لاش بیچنا اور اس كے عوض رقم طلب کرنا جائز نہیں۔اس میں مسلمان کی لاش اور کافر کی لاش برابر ہے۔

          لہٰذا صورتِ مسؤلہ کے مطابق کسی كافر کی لاش کو بیچنا اور اس کے عوض رقم کا مطالبہ کرنا کسی کے لیے جائز نہیں۔

 

والآدمي محترم بعد موته على ما كان عليه في حياته. فكما يحرم التداوي بشيء من الآدمي الحي إكراما له فكذلك لا يجوز التداوي بعظم الميت. قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِ عَظْمِ الْحَيِّ "۔ ( شرح السير الكبير، باب دواءالجراحة،ج1،ص92)

الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي۔ (الفتاوى الهندية، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات وفيه العزل وإسقاط الولد، ج5، ص354)


فتویٰ نمبر : 2945/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں