بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ٹکٹ خرید کر بوتلیں گرانے پر انعام حاصل کرنا


سوال

ایک جگہ میلہ لگتا ہے اس کے اندر ایک مخصوص جگہ پر اندر جانے کا دس روپے ٹکٹ ہے اور اندر پانچ بوتلیں رکھی ہیں جو ان بوتلوں کو ایک ساتھ گرائے گا اس کو موبائل ملے گا کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ ہر وہ معاملہ جس میں کسی غیر یقینی واقعے کی بنیاد پر کوئی رقم اس طرح داؤ پرلگائی گئی ہو کہ یا تو وہ اپنی رقم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے یا اُسے اس سے زیادہ رقم کسی معاوضہ کے بغیر مل جائے، شرعی اعتبار سے قمار اور میسر کہلاتا ہے جو شرعاً  ناجائز ہے، جبکہ مخصوص جگہ میں داخل ہونے کے لیے اگر مالک کوئی فیس (ٹکٹ) وصول کرتا ہو، تو شرعا اس کی گنجائش ہے۔

          صورت مسئولہ میں اگر دس روپے کاٹکٹ  ایک مخصوص جگہ کے اندر ٹھہرنے اور گھومنے پھرنے کا ہو اور ٹکٹ لگانے کا مقصد بوتلیں گرانے پر انعام دینا نہ ہو، تو اس صورت میں ٹکٹ لینا بھی جائز ہے اور بوتلیں ایک ساتھ گرانے پر انعام لینا بھی جائز ہے، البتہ اگر ٹکٹ مخصوص جگہ میں داخل ہونے کےلیے نہ ہو بلکہ بوتلیں گرانے کے لیے ہو تو اس صورت میں چونکہ پانچ بوتلیں ایک ساتھ گرانے پر موبائل مل رہا ہے ، لیکن بوتلیں ایک ساتھ نہ گرانے کی وجہ سے دس روپے  ضائع ہو رہے ہیں اور بدلے میں کچھ نہیں  مل رہا، تو یہ قمار کی صورت ہے  اس لیے جائز نہیں ۔

 

لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة، وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی البیع،ج:9، ص: 577)

(قوله وللعرف) ؛ لأن الناس في سائر الأمصار يدفعون أجرة الحمام وإن لم يعلم مقدار ما يستعمل من الماء ولا ‌مقدار ‌القعود، فدل إجماعهم على جواز ذلك وإن كان القياس يأباه لوروده على إتلاف العين مع الجهالة إتقاني (الدرالمختار مع رد المحنار، كتاب الإجارة، باب الإجار الفاسدة، مطلب في دخوله عليه السلام الحمام...، ج:9، ص:70)


فتویٰ نمبر : 4915/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں