بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طلاق نامہ پرجبراًدستخط کروانےسےطلاق کاوقوع


سوال

میں مسمی ساجدمحمودنےدوسری شادی تلہ گنگ سےبتاریخ 27مئی2020رات 09بجےتین گواہان کی موجودگی میں شرعی طریقےسےکی،اوراسی رات اپنی بیوی کولےکرراولپنڈی چلاگیا ۔نکاح کرتےہی میرےگھروالوں کواس کاعلم ہوگیا،چنانچہ وہ بھی میرےپیچھے راولپنڈی آگئے۔میں تقریبارات 01:30بجے راولپنڈی والےگھرپہنچا،پہنچتےہی میں نےاپنی منکوحہ کو دوست کی فیملی کےپاس چھوڑدیا،اس اندیشہ سےکہ کہیں میرےگھروالےاس کونقصان نہ پہنچائے،اورخوداپنےگھر آکے سوگیا،چنانچہ میرے رشتہ دار بھی تقریبا03:45بجےراولپنڈی پہنچ گئے،اورمجھےوالدہ کی نہایت پریشانی کاحوالہ دےکرتلہ گنگ ساتھ لے گئے،وہاں میرےاکثر رشتہ دار بمع میری والدہ کےموجود تھے،تقریبادوگھنٹےتک مجھےمنکوحہ کوطلاق دینےپر مجبور کررہے تھے،جب میں نےنہ ماناتو میرے سسرال  والوں کوقتل کرنے کی دھمکی کےساتھ عملی جامہ پہنانےکوتیارہوگئے،چنانچہ وہ کھڑاہوکرجانےلگےاورکہاکہ قتل کر کےآؤں گا، اگرچہ ساری زندگی جیل ہی میں گزارنی پڑے۔مجھےیقین تھاکہ وہ یامریں گے یاماریں گےاورمیری والدہ کودرمیان میں ڈال کر مجھےطلاق دینےپرمجبورکیا،چنانچہ میں نےان سب سےتین ماہ کی مہلت لینی چاہی جوکہ قبول نہ کی گئی،پھرایک ہفتہ کی مہلت  مانگی وہ بھی قبول نہ ہوئی،آخرکارتین دن کی مہلت دینےپرراضی ہوئے،تاکہ میں کوئی فیصلہ کرسکوں ،لیکن مولانا محمدسلطان نےتین دن تک مہلت دینےکی حامی اس شرط پر بھرلی کہ تم ابھی اس تحریر (جو انہوں نےپہلےسےلکھی ہوئی تھی)پردستخط کرلو،جس پرمیں نےدستخط کردیا، نیز مذکورہ تین دن کامعاہدہ زبانی ہواتھا،تاکہ میں پہلی بیوی کوراضی کرسکوں ،چنانچہ وہ تین گھنٹےبعدبدل گئی۔ نوٹ نہ تومیں نےیہ تحریرخودلکھی تھی ،نہ پڑھی تھی،اورنہ ہی زبان سےطلاق کالفظ بولاتھا۔نیزمیں حلفاکہتاہوں کہ دستخط کرتے وقت مجھےتواتناعلم  تھاکہ یہ تحریری طلاق نامہ ہے،لیکن یہ  علم ہرگز نہیں تھاکہ یہ تین طلاقیں ہیں،یاایک طلاق ہے،یااس پر میرے دستخط کرنےسےفوراطلاق واقع ہوجائےگی،دستخط کرانے کے بعدمولانامحمدسلطان نےوہ تحریراپنےپاس محفوظ کرلی تھی نہ مجھےدی گی اورنہ میری بیوی کو،تین دن بعدجب میرے مانگنے پر بذریعے واٹس ایپ مجھےبھیجی گئی تواس میں طلاق ثلاثہ لکھاہواتھااور"ثلاثہ "کےمعنی سےمیں ناآشناتھا،کیونکہ یہ عربی کالفظ ہے، اس لیےمیں نےاپنےپاس بیٹھےدوست سے "ثلاثہ" کا معنی پوچھاتواس نےکہاکہ آپ سےتوتین طلاقوں پردستخط کرایا گیا ہے۔ مولانامحمدسلطان نےمجھےاندھیرےمیں رکھااورمجھےشرعی مسئلہ سےآگاہ نہیں کیا۔اب پوچھنایہ ہےکہ مذکورہ صورت حال میں طلاق نامہ پرمیرےدستخط کرنےسے میری بیوی کوطلاق ہوئی ہےیانہیں؟اگرہوئی ہےتوکون سی طلاق  ہوئی ہے؟اوراس عورت پرعدت لازم ہوگی یانہیں؟کیونکہ ہمارے درمیان حقوق زوجیت(صحبت اورخلوت صحیحہ)قائم نہیں ہوئےتھے۔نیزاگرمیں اس عورت سےدوبارہ نکاح کرناچاہوں تواس کی کیاصورت ہوسکتی ہے؟

جواب

              واضح رہےکہ تحریری طلاق نامے پردستخط کرنےسے طلاق کےوقوع میں شوہرکاارادۂ طلاق ضروری ہے،یعنی جب شوہرطلاق نامہ خودلکھ لےیالکھےہوئےطلاق نامےپرطلاق دینےکی نیت سےدستخط کرلے تواس سےطلاق واقع ہوجاتی ہے بصورت دیگرتحریری طلاق نامہ سےطلاق واقع نہیں ہوتی۔

             صورتِ مسئولہ میں شوہرکےبیان کےمطابق اگراس نےمجبورہوکرارادۂ طلاق کےبغیردستخط کیاہوتواس سےطلاق واقع نہیں ہوئی۔ چنانچہ اس کی بیوی پرعدت گزارنا لازم  نہیں،بلکہ بدستوراس کی بیوی رہےگی۔

 

وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، مطلب: فى الإكراه على التوكيل بالطلاق والنكاح والعتاق، ج:4، ص:440، دارالكتب العلمية)

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ههنا.(فتاوى قاضي خان، كتاب الطلاق، فصل فى الطلاق بالكتابة، ج:1، ص:416، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 6335/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں