بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

قسط کی وصولی کے لیے مبیع روکنا


سوال

زید بڑی گاڑیوں اور ٹائرز کا کاروبار کرتا ہے مختلف  لوگوں کو گاڑی اور ٹائرز  قسطوں پر دیتا ہے   اور ساتھ ہی یہ شرط لگا دیتا ہے کہ اگر قسط وقت پر ادا نہ کی تو میں آپ سے گاڑی روک لوں گا قسط کی ادائیگی تک اور یہ شرط دو صورتوں میں لگائی جاتی ہے۔

  1. کسی کو مکمل گاڑی فروخت کرنے پر یہ شرط لگانا
  2. صرف ٹائرز فروخت کرنے پر پوری گاڑی روکنے کی شرط لگانا۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ زید کا یہ معاملہ درست ہے یا نہیں؟ اور اگر مذکورہ شرط لگائے بغیر زید ایسا معاملہ کرے یعنی گاڑی کو روکے تو درست ہوگا یا نہیں؟

جواب

                قسطوں کا کاروبار چونکہ ادھار کا معاملہ (بیع مؤجل) ہے٬ جس میں بیچنے والا اپنی قیمت کی وصولی کو مؤخر کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے،اس کے بعد بائع کو قسط مؤخر ہونے پر یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مبیع روک لے  ۔

                صورت مسئولہ کے مطابق اگر بائع نے فروخت کرنے کے بعد گاڑی مشتری کے حوالہ کی تو   قسط مؤخر  ہونے کی وجہ سے، بائع کو مبیع (بیچی جانے والی چیز) کے روکنے کا حق حاصل نہیں ،  لہذا مقررہ تاریخ تک قسط کی ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں گاڑی کو روکنے کی شرط لگانا درست نہیں ہے٬  اسکے علاوہ صرف ٹائرز فروخت کرنے کی صورت میں مبیع(ٹائرز)  سمیت  خریدار  کی اضافی ملکیت (بقیہ گاڑی) کو روکنا بھی جائز نہیں تاہم گاہک کو وقت پر ادائیگی کا پابند کرنے کیلئے کوئی اور مناسب حکمت عملی (مثلا: گروی وغیرہ کی صورت) اختیار کی جاسکتی ہے۔­

 

للبائع حق حبس المبيع لاستيفاء الثمن إذا كان حالا كذا في المحيط وإن كان مؤجلا فليس للبائع أن يحبس المبيع قبل حلول الأجل ولا بعده كذا في المبسوط. (الفتاوى الهندية، کتاب البیوع، الباب الرابع في حبس المبيع بالثمن، الفصل الأول في حبس المبيع بالثمن، ج:3، ص:15)

في بيع النسيئة ليس للبائع حق حبس المبيع بل عليه أن يسلم المبيع إلى المشتري على أن يقبض الثمن وقت حلول الأجل. (مجلة الأحكام العدلية، الباب الخامس: في بيان المسائل المتعلقة بالتسليم والتسلم، الفصل الثاني: في المواد المتعلقة بحبس المبيع، المادة:283، ج:1، ص:57)


فتویٰ نمبر : 3038/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں