بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

وارث کا مورث سے پہلے انتقال کی صورت میں میراث کا حکم


سوال

ایک عورت کی وفات اس کے والد کے انتقال سے پہلے ہوئی ہے۔اب اس عورت کے والد کے فوت ہونے کے بعد اس کویا اس  کے بچوں کو میراث میں حصہ ملے گا یا نہیں جبکہ مرحوم کا  بیٹا بھی موجود ہے۔

جواب

             شرعی نقطہ نظر سے مورث کی زندگی میں فوت ہونے والا وارث،  میراث کا مستحق  نہیں ہوتا۔

           لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی عورت  کا انتقال اس کے والد کے انتقال   سے پہلے ہوجائے ، تو اس کو والد کے میراث میں  حصہ نہیں ملےگا، کیونکہ  وارثت کے لیے وارث کا مورث کے انتقال کے وقت زندہ ہونا ضروری ہے۔نیز جب مرحوم کا بیٹاموجود ہو تو نواسوں کا بھی میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔

 

وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الفرائض، ج:10، ص:491، دارالکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 3153/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں