بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

عقد مزارعت میں دوائی،کھاد اور کٹائی کی ذمہ داری


سوال

عقد مزارعت ميں  فصل پر دوائی کا اسپرے کرنے، کھاد  دینے ، فصل کی کٹائی  کا خرچہ اور ناقص گھاس کا نکالنا (گوڈ)   مالک زمین کے  ذمےہوگا   یا کاشتکار   کے ذمےیا دونوں کے ذمے ؟

جواب

            مزارعت شرعا جائز ہے کہ مالک زمین کاشتکار  سے آمدن کے معلوم  حصے پر معاہدہ کر کے  زمین دیدے یعنی یہ کہے کہ مثلا  آمدن کا ایک تہائی تمہارا ہوگا اور دو تہائی میرا یا کسی بھی مشاع حصہ پر بات ہو جائے ۔ ایسی صورت میں ضروری  ہے کہ مزارعت میں جس عمل اور محنت کا تعلق  فصل  کے ساتھ اس کے پکنے کے زمانے  تک ہو تو وہ کاشتکار  کے ذمے ہے اور جن امور کا تعلق فصل  پر ہونے والے  اخراجات  کے ساتھ ہو  جیسے کھاد  آبیانہ ،فصل کی کٹائی اور تھریشر تو یہ تمام اخراجات  مالک زمین اور کاشتکار دونوں پر ان کے بقدر تقسیم کیے جائیں گے۔

           صورت مسئولہ کے مطابق اگر  مزارعت  ميں مالك زمين اور كاشتكار كے درميان  مشاع حصہ  پر بات ہو جائے تو  فصل پر دوائی اسپرےکرنے، کھاد  اور فصل کی کٹائی کا خرچہ مالک زمین اور کاشتکار دونوں  كے درمیان مشترک ہوگا۔تا ہم فصل سے  ناقص گھاس کا نکالنا (گوڈ)   کاشتکار کے ذمہ ہوگا۔

 

وأما أحكامها منها أن كل ما كان من عمل المزارعة مما يحتاج الزرع إليه لإصلاحه فعلى المزارع وكل ما كان من باب النفقة على الزرع من السرقين وقلع الحشاوة ونحو ذلك فعليهما على قدر حقهما وكذلك الحصاد والحمل إلى البيدر والدياس۔(الفتاوی الھندیة،كتاب المزارعة،الباب الأول،ج:5، ص:237)


فتویٰ نمبر : 2936/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں