بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں مدرسہ کےلیے چندہ مانگنا


سوال

مسجد میں مدرسہ یا مدرسہ کے طلبہ کے لیےچندہ مانگنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

       واضح رہے کہ چندہ کا معنیٰ ہے کسی کا رِ خیرکےلیے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دے کر ان سے رقم اکٹھا کرنا،مختلف مواقع پر نبی کریم ﷺ کی طرف سےچندے کا اعلان اور بعض مواقع پر آپ ﷺ کا خود مسجد میں امداد جمع کرنا منقول ہے ،جیسے غزوہ تبوک، اورایک ضرورت  مند قبیلے کے وفد کی آمد کے موقع پر ۔لہٰذا  دینی مدارس کے لیے یا مسجد کے ليے  اگر چندہ کی ضرورت ہو تو مسجد میں چندہ کرنا جائز ہے، البتہ درجہ ذیل شرائط کی رعایت رکھی جائے گی:

(1)چندہ مانگنے والا نمازیوں کےسامنے گزرنے سے احتراز کرے۔ (2) چندہ مانگنےوالاکسی نمازی کو تکلیف نہ دے ، مثلاً گردن نہ پھلانگے (3) لوگوں کے ساتھ چمٹ کر اور ضدی بن کربھیک  مانگنے کی شکل نہ بنائے ۔(4) خطبہ جمعہ کے دوران چندہ نہ کیا جائے۔

اگر ان شرائط کی رعایت نہ ہو سکے تو پھر ضرورت کے وقت مسجد میں صرف اعلان کرلیا جائے، جب کہ رقم مسجد سے باہر اکٹھی کی جائے۔

 

عن عبد الرحمن بن خباب، قال: شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحث على جيش العسرة فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي مائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله، ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي مائتا بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله، ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي ثلاث مائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله، فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عن المنبر وهو يقول: ما على عثمان ما عمل بعد هذه، ما على عثمان ما عمل بعد هذه.(سنن الترمذی،ابواب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفان،رقم الحديث:3700،ج:2،ص:211)

عن قبيصة بن مخارق قال: إني تحملت بحمالة في قومي فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله إني تحملت بحمالة في قومي وأتيتك لتعينني فيها قال:"بل نتحملها عنك يا قبيصة ونؤديها إليهم من الصدقة" ۔ (تفسير البغوى ، البقرة:247،ج:1،ص:260)

 ( قوله ويكره التخطي للسؤال إلخ ) قال في النهر : والمختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطى الرقاب ولا يسأل إلحافا بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء ا هـ ومثله في البزازية. وفيها ولا يجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الصلوة، باب الجمعة، مطلب فی الصدقة علی سوال المسجد،ج:3،ص:42)


فتویٰ نمبر : 4869/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں