بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/08/2026

دارالافتاء

 

نمازی کے سامنے سے گزرنے میں مسجد کبیروصغیراورمسجدحرام کا فرق


سوال

مساجد میں کتنے فاصلےپر نمازی کے آگے سے گزرنے کی اجازت ہے،نیز اس سلسلے میں مسجد حرام اور دیگر عام مساجد کا حکم یکساں ہے یا نہیں؟اسی طرح بڑی اور چھوٹی  مساجد میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟

جواب

              نمازی کے سامنے سے گزرنے میں مسجد کبیر اور صغیر کے حکم میں فرق ہے مسجد کبیر میں دو یا تین صف چھوڑ کر نمازی کے آگے سے گزرنے کی اجازت ہے جب کہ مسجد صغیر میں  سترہ کے بغیر  گزرنے کی اجازت نہیں ،کیونکہ حدیث شریف میں نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے متعلق سخت وعید آئی ہے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ"نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو اگر اپنے اس فعل کی گناہ معلوم ہوجائے تو وہ نمازی کے سامنے سے گزرنے کی بجائے چالیس سال تک کھڑا رہنا پسند کرے گا"فقہائے کرام نے اس حدیث کو چھوٹی مسجد یا گھر میں نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے پر محمول کیاہےاور مسجد صغیر وکبیر میں فرق یہ بیان کیا گیا ہےکہ جو مسجد طولا(لمبائی میں)چالیس ہاتھ(جس کی مقدار انگریزی گز کے حساب سے تقریبا بیس/20گز یعنی ساٹھ/60فٹ بنتی ہے)سے کم ہو تو وہ"چھوٹی مسجد"کہلائے گی،اور اس سے  زیادہ طول والی مسجد   " مسجد کبیر "کہلائے گی ۔اس سلسلے میں مسجد حرام  اور دیگر بڑی مساجد کا حکم یکساں ہے،البتہ طواف کرنے والےنمازی کے سجدے کی جگہ کو چھوڑ کراس کے آگے گزر سکتے ہیں۔

 

قال أبو جهيم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه، لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه» قال أبو النضر: لا أدري، أقال أربعين يوما، أو شهرا، أو سنة.(أخرجه البخاري في صحيحه، كتاب الصلاة، باب إثم الماربين يدي المصلي، رقم الحديث:510، ج:1، ص:184، الطاف ايندسنزكراتشي)

(قوله ومسجد صغير) هو أقل من ستين ذراعا، وقيل من أربعين، وهو المختار كما أشار إليه في الجواهر قهستاني.(قوله فإنه كبقعة واحدة) أي من حيث إنه لم يجعل الفاصل فيه بقدر صفين مانعا من الاقتداء تنزيلا له منزلة مكان واحد، بخلاف المسجد الكبير فإنه جعل فيه مانعا فكذا هنا يجعل جميع ما بين يدي المصلي إلى حائط القبلة مكانا واحدا، بخلاف المسجد الكبير والصحراء فإنه لو جعل كذلك لزم الحرج على المارة، فاقتصر على موضع السجود۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة ومايكره فيها، مطلب:إذاقرأ قوله – تعالی جدك -...ج:2، ص:398، دارالكتب العلمية)

ولم يذكر في الكتاب قدر المرور، واختلف المشايخ فيه قال بعضهم: قدر موضع السجود، وقال بعضهم: مقدار الصفين، وقال بعضهم: قدر ما يقع بصره على المار لو صلى بخشوع، وفيما وراء ذلك لا يكره و هو الأصح.  (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصلاة، باب مايستحب ويكره فيها، ج:2،ص:83، دارالكتب العلمية)

ذكر في حاشية المدني لا يمنع المار داخل الكعبة وخلف المقام وحاشية المطاف، لما روى أحمد وأبو داود عن «المطلب بن أبي وداعة أنه رأى النبي - صلى الله عليه وسلم - يصلي مما يلي باب بني سهم والناس يمرون بين يديه وليس بينهما سترة» وهو محمول على الطائفين فيما يظهر لأن الطواف صلاة، فصار كمن بين يديه صفوف من المصلين انتهى ۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة ومايكره فيها،ج:2،ص:400)


فتویٰ نمبر : 8972/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں