بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

خالص ریشم کی کڑھائی کی ٹوپی پہننا


سوال

ميرا ماموں ايمبيسي میں ملازمت کرتا ہے اسں کو کسی سفیر نے ایک ٹوپی گفٹ میں دی ہےجس پر اصلی ریشم کے دھاگے سے کام ہواہےاور اس ریشم کی مقدار بھی معلوم کرنامشکل ہے  کہ وہ چار انگلیوں کے برابر ہے یا نہیں ؟ تو  اس قسم کی ٹوپی پہننے کا کیا حکم ہے؟

جواب

          شریعت مطہرہ کی رو سے مردوں کے لئے خالص ریشم کا استعمال جائز نہیں البتہ  كپڑوں ميں جهالر وغيره كے طور پر چوڑائى ميں چار انگلیوں کے برابر یا اس سے کم ریشم کے استعمال کی شرعا گنجائش ہے۔

           لہذا صورت مسئولہ میں  اگر ٹوپی میں موجود دهاگے خالص ریشم کے ہو ں تو اگر وہ چوڑائی میں چار انگليوں  کے برابر یا اس سے کم  جگہ پر ہوں تواس کے استعمال کی گنجائش ہے تاہم اگر چوڑائی میں چارانگلیوں سے زائد مقدار ہو تو  اس کا پہنناجائز نہیں اور اگر صحیح طرح سے  اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہو تو احتیاط اسی میں ہے کہ اس کو استعمال نہ کیا جائے۔

 

حرم للرجل لا للمرأة لبس الحرير الإ قدر أربع أصابع۔۔۔۔ ولما روي عنه عليه الصلاة والسلام قال من لبس الحرير في الدنيا لم يلبسه في الآخرة إلا أن اليسير معفو عنه وهو مقدار أربع أصابع(البحرالرائق ،کتاب الکراہیۃ،فصل فی اللبس ج:8 ص:215)

أما ما كان سداه حريرا ولحمته غير حرير فلا بأس بلبسه بلا خلاف بين العلماء وهو الصحيح وعليه عامة المشايخ رحمهم الله تعالى۔(الفتاوٰی الھندیۃ،الباب التاسع فی البس ما یکرہ من ذالک ج:5 ص:330)

هذا إذا كان الحرير كثيرا فإن كان قليلا كأعلام الثياب والعمائم قدر أربعة أصابع فما دونها لا يكره وكذا العلم المنسوج بالذهب لأنه تابع والعبرة للمتبوع۔(بدائع الصنائع ، کتاب الاستحسان، ج:6،ص:521)


فتویٰ نمبر : 4861/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں