بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

کنڈوم کااستعمال


سوال

اگر ایک عورت  کا اپریشن  کے ذریعہ  بچہ پیدا ہو جائے،اور اس کے بعد میاں بیوی کی خواہش ہوکہ ابھی فی الحال دوسرا حمل نہ ہو،تو کیا مباشرت کے دوران  بیوی کی اجازت سے شوہر کے لیے عزل کرنا یا کنڈوم استعمال کرناجائز ہے یا نہیں ؟

جواب

                فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے  کہ عزل کرنا خواہ کنڈوم کے ذریعہ ہو یا کوئی اور مانع حمل تدبیر اختیار کرنے کی صورت میں   ہو،اگر بیوی کی اجازت سے ہو یا کسی  شرعی عذر کی بنا پر  ہوتو جائز ہے، مثلاً:عورت کمزور ہو نے کی وجہ سے حمل کی متحمل نہ ہو ،یا پہلا بچہ ابھی دودھ پی رہا ہواور  حمل کی وجہ سے اس کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔

           صورت مسئولہ کے مطابق اگر بیوی کاآپریشن  ہو چکا ہو اور دوبارہ حمل کی متحمل نہ ہو تو عزل کرنے اور کنڈوم استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔

 

(ويعزل عن الحرة) وكذا المكاتبة، نهر بحثاً، (بإذنها)، لكن في الخانية أنه يباح في زماننا؛ لفساده، قال الكمال: فليعتبر عذراً مسقطاً لإذنها، وقالوا: يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج، (وعن أمته بغير إذنها) بلا كراهة .(قوله: قال الكمال) عبارته: وفي الفتاوى إن خاف من الولد السوء في الحرة يسعه العزل بغير رضاها؛ لفساد الزمان، فليعتبر مثله من الأعذار مسقطاً لإذنها. اهـ. فقد علم مما في الخانية أن منقول المذهب عدم الإباحة، وأن هذا تقييد من مشايخ المذهب؛ لتغير بعض الأحكام بتغير الزمان، وأقره في الفتح، وبه جزم القهستاني أيضاً حيث قال: وهذا إذا لم يخف على الولد السوء؛ لفساد الزمان، وإلا فيجوز بلا إذنها. اهـ. لكن قول الفتح: فليعتبر مثله إلخ يحتمل أن يريد بالمثل ذلك العذر، كقولهم: مثلك لا يبخل. ويحتمل أنه أراد إلحاق مثل هذا العذر به كأن يكون في سفر بعيد، أو في دار الحرب فخاف على الولد، أو كانت الزوجة سيئة الخلق ويريد فراقها فخاف أن تحبل، وكذا ما يأتي في إسقاط الحمل عن ابن وهبان، فافهم((ردالمحتارمع الدرالمختار،مطلب في حكم العزل،ج:3،ص:175)

مستفاد: أٴفاد وضع المسألةأن العزل جائز بالإذن وھذا ھو الصحیح عند عامة العلماء لما فی البخاري عن جابر: کنا نعزل والقرآن ینزل، الخ (البحر الرائق ج:3،ص:348 )


فتویٰ نمبر : 4907/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں