بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

خنثی ٰ مشکل کی داڑھی لیزر سے ختم کرنا اوراس پر اجرت لینا


سوال

میں ایک ڈاکٹر ہوں ، میرے پاس ایک آدمی آیا جس نے کلین شیو کی تھی اور مجھے داڑھی کے بال  لیز ر سے صاف کرنے  کا کہا ۔پھر بعد میں پتہ چلا کہ وہ خنثیٰ مشکل تھاتو داڑھی کو لیزر سےختم کرنا اور اس پر پیسے لینے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

            واضح رہے کہ اگر خنثیٰ بچے کےبلوغ کے بعد داڑھی آگئی یا عورتوں سے وطی کرنے کی قدرت حاصل ہوگئی تو چونکہ یہ مردوں کی علامات ہیں،لہٰذا اس کو مرد شمار کیا جائے گااور اگر اس میں عورتوں کی کوئی علامت ظاہر ہوگئی مثلا پستان نکل آئے یا کوئی اور علامت ظاہر ہوئی تواس پر عورتوں کے احکامات جاری ہوں گے۔چونکہ داڑھی اسلام کے شعار میں سےہے جس کو نبی کریمﷺ نے انبیائے کرام کی سنت اور فطرت انسانی کا تقاضا قرار دیا ہے اورمشرکین اور غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کر کے ڈاڑھی کاٹنے سے منع فرمایا ہےاس لیے فقہائے کرام  کے نزدیک داڑھی مونڈوانا حرام ہے ،تاہم فقہائے کرام نے  عورت کے چہرے پر غیر معتاد بالوں کی صفائی کو مستحب قراردیا ہے۔

          صورت مسئولہ میں اگر خنثیٰ مشکل (دو وصف نما شخص) میں مردوں کی علامات ظاہر ہوں  تو اس پر مردوں کے احکام جاری ہو کراس کے لیےداڑھی مونڈوانا ناجائز ہوگا چاہے لیزر کے ذریعے سے ہو یا کسی اور ذریعےسے ہو ، نیز شریعت مطہرہ کی روسے گناہ اور معصیت کے کاموں پر اجرت لینا بھی ناجائز ہے اس لیے  کسی  کی داڑھی مونڈانے پر اجرت لینا جائز نہیں، تاہم اگر خنثیٰ مشکل میں مردوں کی بجائے عورتوں کی علامات ظاہر ہوں مثلااس کے پستان نکل آئے ہوں یا کوئی اور علامت ظاہر ہوئی ہوتو پھر اس پر عورتوں کے احکام جاری ہوں گے،چنانچہ اس کےچہرے پر زائد بال اگنے کی صورت میں اس کو صاف کرنے کی گنجائش ہے البتہ ایسی صورت میں بالوں کی صفائی کے اس کام کو کسی عورت کے واسطے سر انجام دیا جائے تاکہ بے پردگی نہ ہو ۔

 

قال:وإذا بلغ الخنثى وخرجت له اللحية أو وصل إلى النساء فهو رجل وكذا إذا احتلم كما يحتلم الرجل أو كان له ثدي مستو، لأن هذه من علامات الذكران ولو ظهر له ثدي كثدي المرأة أو نزل له لبن في ثديه أو حاض أو حبل أو أمكن الوصول إليه من الفرج فهو امرأة لأن هذه من علامات النساء وإن لم يظهر إحدى هذه العلامات فهو خنثى مشكل وكذا إذا تعارضت هذه المعالم.(الھدایۃ،کتاب الخنثیٰ،فصل فی بیانہ،ج:8،ص:379،المکتبۃ البشریٰ)

وفي تبيين المحارم إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی النظر اللمس،ج:9،ص:536)۔

واما الاخذ منھا وھی دون ذالک کما یفعلہ بعض المغاربۃومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحدوأخذ کلھا فعل الھندومجوس الاعاجم۔(الدر المختار،کتاب الصوم ، مطلب فی أخذ اللحیۃ،ج:3،ص:398)

السنۃفیھا القبضۃ ۔۔۔ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ۔(الدر المختار،کتاب الحظر والاباحۃ،باب الااستبراء،فصل فی البیع،ج:9،ص:583)

لا تصح الاجارۃ لعسب التیس۔۔۔ولا لأجل المعاصی مثل الغناء والنوع والملاھی۔(رد المحتار علی الدر المختار،باب الاجارۃ الفاسدۃ،ج:9،ص:75)۔


فتویٰ نمبر : 4884/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں