بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

حرام چیز غیر مسلم کو دینا


سوال

 ایک شخص کو کسی نے کوئی چیز بطور ہدیہ دی اور اس کو یقینی طور پر معلوم ہوکہ یہ چیز حرام ہے،مثلاًاس میں خنزیر یامردار کے اجزاءشامل ہوں تو کیا وہ چیزکسی غیر مسلم کو دے سکتے ہیں؟

جواب

                   واضح رہے کہ اگر کوئی مسلمان حرام چیز کامالک بن جائےتو اس کے لیے ضروری ہے کہ اگرہو سکےتو اس کی ماہیت تبدیل کرکے اس سے حلال چیز بنائے،مثلا کوئی شراب کا مالک بنے تو اس سے سرکہ بنائے،یااگر ماہیت تبدیل کرنا ممکن نہ ہو تو ضائع کردے۔

               لہٰذا صورت مسئولہ میں اگرکسی  شخص کو ہدیہ میں دی گئی  چیز میں حرام اجزا شامل  ہوں تواگر اس کی ماہیت حلال چیزمیں تبدیل کرنے کا کوئی طریقہ ممکن  ہوتوتبدیل کرےورنہ اس کو ضائع کرے  ،کسی  غیر مسلم کو دینا  جائز نہیں ۔

 

أمرالمسلم ببيع خمرأو خنزير۔۔۔قوله:ببيع خمرأو خنزير أي مملوكين له بأن أسلم عليهماومات قبل أن يزيلهما وله وارث مسلم فيرثهما۔۔۔فيجب عليه أن يخلل الخمر أو يريقها ويسيب الخنزير۔(ردالمحتارمع الدرالمختار،باب البیع الفاسد،مطلب في بيع الشرب؛ج:7،ص،280،دارالكتب العلمية بيروت)

لوأحرقت العذرةأوالروث فصار رماداأو مات الحمارفي المملحة فصارملحاأو وقع الروث في البئر فصارحمأة زالت النجاسة وطهرت۔۔۔حتیٰ لو أكلت الملح أو صلیٰ علي ذالك الرماد جاز۔(منية المصلي و غنية المبتدي علیٰ صدرحلبةالمجلي وبغية المهتدي،فصل في الطهارة من الأنجاس،ج:1،ص:537،دارالكتب العلمية،بيروت)


فتویٰ نمبر : 4890/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں