بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مسجد میں موبائل استعمال کرنا
سوال
کیامسجد میں واٹس ایپ اور فیس بک استعمال کر سکتے ہیں؟
جواب
مسجد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکروفکر کے لیے مخصوص ہے، اس لیے مسجد کے آداب کی رعایت رکھنا ضروری ہے ۔ جس کام سے اس کی بے ادبی اور بےاحترامی ہوتی ہو اس سے اجتناب لازم ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق مسجد میں بلاضرورت حتی الوسع موبائل کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے ، لیکن اگر استعمال کی ضرورت پیش آئے تو بقدر ضرورت استعمال کی گنجائش ہوگی،اس صورت میں اگرسکرین پر منکرات جیسے عورتوں کی تصاویر وغیرہ نمودار ہو جائے تو نظر فجاءة کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہوگا ،البتہ اس کو فورا ختم کیا جائے، جبکہ فیس بک یا دیگر ایپلی کیشنز جن میں غیر اختیاری طور پرمنکرات بھی سکرین پر آتے ہوں ، تومسجد میں ان کے استعما ل سے اجتناب بہرحال ضروری ہے۔
عن جرير بن عبد الله قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن نظرة الفجأة "فأمرني أن أصرف بصري". (سنن ترمذي، كتاب الأدب، باب: ماجاء في نظرة الفجاءة، رقم الحديث : 2776)
وصرح في الظهيرية بكراهة الحديث: أي كلام الناس في المسجد، لكن قيده بأن يجلس لأجله...أما إن جلس للعبادة، ثم بعدها تكلم فلا۔ (البحرالرائق، كتاب الصلوة،باب ما يفسد الصلوة ومايكره فيها، فصل: كره استقبال القبلة، ج:2، ص:63)
الكلام المباح من حديث الدنيا يجوز في المساجد وإن كان الأولى أن يشتغل بذكر الله تعالى...قال في المصفى: الجلوس في المسجد للحديث مأذون شرعا؛ لأن أهل الصفة كانوا يلازمون المسجد، وكانوا ينامون، ويتحدثون (ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الصلوة، باب ما يفسد الصلوة ومايكره فيها، مطلب فی الغرس فی المسجد، ج:1، ص:662)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں