بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

منی پاک ہے یا ناپاک


سوال

کیا منی پاک ہے؟

جواب

           منی کی پاکی اور ناپاکی کے بارے میں فقہاے کرام کے مابین اختلاف ہے،امام شافعی اور امام احمدرحمھمااللہ کےراجح قول کے مطابق منی پاک ہے،یہ حضرات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جس میں منی کا صرف کھرچنا منقول ہے،جبکہ امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمھمااللہ کے نزدیک منی ناپاک ہے، یہ حضرات  حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی اس حدیث  سے استدلال کرتے ہیں جس میں منی کادھونا منقول ہے،اسی طرح  حضرت معاویہ بن ابی سفیان  رضی اللہ تعالی عنھما کی روایت ہےکہ انہوں نے اپنی بہن  ام المؤ منین ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ کیا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ان کپڑوں میں نمازپڑھتے تھے جن میں مجامعت فرماتے تھے تو انہوں نے جواب دیا،جی ہاں پڑھتے تھے جب اس میں نجاست کا  اثر نہ دیکھتے تھے، اس کے علاوہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا کہ کپڑےکوجب پانچ چیزیں لگ جائیں ،ان کو دھویا کروان پانچ میں سے منی کا تذکرہ بھی کیا،ان دلائل سے حنفیہ اور مالکیہ کا قول راجح معلوم ہوتا ہے۔

 

حدثنا عيسى بن حماد المصرى أخبرنا الليث عن يزيد بن أبى حبيب عن سويد بن قيس عن معاوية بن حديج عن معاوية بن أبى سفيان أنه سأل أخته أم حبيبة زوج النبى -صلى الله عليه وسلم- هل كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلى فى الثوب الذى يجامعها فيه فقالت نعم إذا لم ير فيه أذى۔(سنن أبي داود،باب الصلوة في الثوب الذي يصيب أهله فيه،ج:1،ص:100)

حدثنا أحمد بن علي بن العلاء , ثنا محمد بن شوكر بن رافع الطوسي , نا أبو إسحاق الضرير إبراهيم بن زكريا , نا ثابت بن حماد , عن علي بن زيد , عن سعيد بن المسيب , عن عمار بن ياسر , قال: أتى علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا علی بئر أدلو ماء في ركوة لي , فقال: «يا عمار ما تصنع؟» , قلت: يا رسول الله بأبي وأمي , أغسل ثوبي من نخامة أصابته , فقال: " يا عمار إنما يغسل الثوب من خمس: من الغائط والبول والقيء والدم والمن ( سنن الدار قطني، باب نجاسة البول والأمر  بالتنزه والحكم، ج:1، ص:230)

والمني نجس يجب غسله إن كان رطبا فإذا جف على الثوب أجزأ فيه الفرك لقوله عليه الصلاة والسلام لعائشة رضي الله عنها فاغسليه إن كان رطبا وافركيه إن كان يابسا وقال الشافعي رحمه الله المني طاهر والحجة عليه ما رويناه (الهدايه،فصل في النفاس:ج:1،ص:35)


فتویٰ نمبر : 8977/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں