بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں بچوں سے فیس لینا


سوال

مسجد میں ایک مدرس بچوں کو ناظرہ قرآن اور تربیتی نصاب پڑھا  رہا ہے لیکن اس ذمہ داری پر اس کو مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے کوئی وظیفہ مقرر نہیں ہے، تو کیا مدرس کا بچوں کے والدین کو ترغیب دے کر فیس وصول کرنا جائز ہے؟ اورایسے پیسوں کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

جواب

              شریعت مطہرہ کے روسے مسجد کے تقدس اور احترام کو مد نظررکھتے ہوئےمسجد کے اندر خرید و فروخت وغیرہ معاملات کو منع کیا گیا ہے،البتہ قرآن و حدیث  کی تعلیم دین کی خدمت اور عبادت ہے اس لئے مسجد میں ان امور کو سرانجام دینا جائز ہے جہاں تک اس پراجرت کا تعلق ہے تو تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے اور اس سے قران وحدیث کی تعلیم پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور ثواب میں کوئی کمی نہیں آتی تاہم مقصد دین کی خدمت ہو دنیا کمانے کا ذریعہ نہ ہو، نیز مسجد کے آداب کی رعایت بھی رکھی جائے۔

 

(وخص) المعتكف (بأكل وشرب ونوم وعقد احتاج إليه) لنفسه أو عياله فلو لتجارة كره (كبيع ونكاح ورجعة)۔۔۔ (وكره) أي تحريما لأنها محل إطلاقهم۔ بحر (إحضار مبيع فيه) كما كره فيه مبايعة غير المعتكف مطلقا للنهي۔

(قوله وخص المعتكف بأكل إلخ) أي في المسجد والباء داخلة على المقصور عليه بمعنى أن المعتكف مقصور على الأكل ونحوه في المسجد لا يحل له في غيره (ردالمحتار، كتاب الصوم، باب الإعتكاف، ج:3، ص:440)

قال۔ رحمه الله ۔(والفتوى اليوم على جواز الاستئجار لتعليم القران )وهو مذهب المتاخرين من مشائخ بلخ استحسنوا ذلك (تبيين الحقائق ،كتاب الاجاره، ج6 ص117)


فتویٰ نمبر : 2935/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں