بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

پولیس اہلکار کے شہید ہونے کا حکم


سوال

بندہ جامع مسجد پولیس لائنز لکی مروت میں بطور امام اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے دوران ڈیوٹی جو پولیس اہلکار شہید ہوجاتے ہیں انہیں تجہیز وتکفین کے لیے پولیس لائنز لایا جاتا ہے ان میتوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔1۔وہ پولیس اہلکار جو ناکہ بندی وغیرہ پر نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل لیے جاتے ہیں جیسے ٹارگٹ کلنگ کہا جاتا ہے۔2۔وہ پولیس اہلکار جو کسی مفرور یا حکومت کو مطلوب شخص کے گھر پر گرفتاری کے لیے چھاپہ مارنے کے دوران مارے جاتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ان دونوں قسموں کے مقتولین پر دنیاوی شہید (بلا غسل وکفن دفن کرنا)کے احکام جاری ہوں گے  یا نہیں؟

جواب

               واضح رہے کہ شہید کی دو قسمیں ہیں،حقیقی اور حکمی۔ حقیقی شہید وہ کہلاتا ہے جسے میدان جہاد میں کافروں نے قتل کر دیا ہو یا معرکہ جنگ میں پایا جائے اور اس پر زخم کا نشان ہو یا معرکہ جنگ کے بغیر اسے ظلما قتل کر دیا گیا ہو۔اس پر شہید کے دنیوی احکامات لاگو ہوتے ہیں چنانچہ  اس کو غسل وکفن نہیں دیا جاتا اور نماز جنازہ پڑھ کر انہی کپڑوں میں دفن کردیا جاتا ہے جس میں شہید ہوا تھاجیسے اعلائے کلمۃاللہ کے لیے اپنی جان قربان کر دینے والا یا کسی کے ہاتھ ناحق قتل ہونے والا، بشرطیکہ وہ بغیر علاج ومعالجہ،کھانے،پینے اور وصیت کے موقع پر ہی فوت ہو جائے۔ اور حکمی شہید وہ کہلاتا ہےجس کے بارے میں احادیث میں شہادت کی بشارت وارد ہوئی ہو،لیکن اس پر حقیقی شہید کی تعریف صادق نہ آتی ہو ایسا شخص آخرت میں شہیدوں کی فہرست میں شمار کیا جائے گا البتہ دنیا میں اس پر عام میتوں والے احکام جاری ہوں گےیعنی اس کو غسل دیا جائیگا اور کفن بھی پہنایا جائیگا،ایسے شہداء کی بہت سے قسمیں ہیں جیسے آگ سے جل کر یا پانی میں ڈوب کر یا کسی جگہ سے گر کر مر جانے والا وغیرہ ۔

            صورت مسئولہ کے مطابق کوئی پولیس اہلکار چاہے ناکہ بندی وغیرہ پر نامعلوم افراد کے ہاتھوں مارا جائے یا کسی مفرور یا حکومت کو مطلوب شخص کے ساتھ مقابلہ میں مارا جائے تو وہ شہیدشمار  ہوگا،کیونکہ وہ  ناحق اور ظلما مارا جاتا ہے،لہذا اگر وہ اسی موقع پر فوت ہوجائےیعنی زندہ حالت میں ہسپتال وغیرہ منتقل نہ کیا گیا ہو تو اس پر شہید حقیقی کے احکامات جاری ہوں گے۔

 

الشهيد من قتله المشركون أو وجد في المعركة وبه أثر أو قتله المسلمون ظلما۔(الهداية،كتاب الصلاة،باب الشهيد،ج:1،ص:92)

ولو نزل عليه اللصوص ليلا في المصر فقتل بسلاح، أو غيره، أو قتله قطاع الطريق خارج المصر بسلاح، أو غيره فهو شهيد؛ لأن القتيل لم يخلف في هذه المواضع بدلا هو مال. ولو قتل في المصر نهارا بسلاح ظلما بأن قتل بحديدة، أو ما يشبه الحديدة كالنحاس، والصفر، وما أشبه ذلك، أو ما يعمل عمل الحديد من جرح، أو قطع، أو طعن بأن قتله بزجاجة، أو بليطة قصب، أو طعنه برمح لا زج له، أو رماه بنشابة لا نصل لها، أو أحرقه بالنار، وفي الجملة كل قتل يتعلق به وجوب القصاص فالقتيل شهيد۔(بدائع الصنائع،كتاب الصلاة،فصل في الشهيد وحكمه،ج:2،ص:360)


فتویٰ نمبر : 8991/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں