بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
شوہر کو معلق طلاق کے وقوع کا علم نہ ہونا
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا:’’اگر آپ نے کسی کو میسج کیا تو آپ مجھ پر طلاق ہوگی‘‘ بعد میں بیوی نے کسی کو میسج کیا لیکن شوہر کو معلوم نہ تھا اور عدت کے اندر شوہر نے بیوی سے ہمبستری کی تو ایسی صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟ اور اگر بیوی آئندہ بھی میسجز کرے اور شوہر کو معلوم نہ ہو تو کیااور طلاقیں واقع ہوں گی؟
جواب
واضح رہے کہ جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو پھر چاہے شرط کے پائے جانے کا علم شوہر کو ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
صورت مسئولہ میں جب شوہر نے بیوی کے کسی کو میسج کرنے کے ساتھ ایک طلاق کو معلق کیا تو میسج کرنے سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے،اگر چہ شوہر کو اس کا علم نہ ہو اور طلاق رجعی میں چونکہ عدت کے دوران جماع یا دواعی جماع وغیرہ سے رجوع ثابت ہوتی ہے، لہذا شوہر کے عدت کے دوران جماع کرنے سے رجوع ثابت ہوئی، دوبارہ میسجز کرنے سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، اور آئندہ کے لیے اس کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی ہے ۔
وإذا أضافه إلى الشرط، وقع عقيب الشرط اتفاقا، مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار، فأنت طالق۔ (الفتاوی الهنديه، كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، ج:1، ص:420)
ولو حلف لا يأخذ من فلان ثوبا هرويا، فأخذ منه جرابا هرويا فيه ثوب هروي قد دسه فيه، وهو لا يعلم حنث قضاء، وكذا لو حلف لا يأخذ منه درهما فأعطاه فلوسا في كيس ودس فيها درهما، فقبضها الحالف ولا يعلم، حنث۔ (الفتاوی الهنديه، كتاب الإيمان، الباب الثامن في اليمين في البيع والشراء، ج:2، ص:119)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں