بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

جواز جمعہ میں فتنہ کے خوف سے دوسرے مذہب پر عمل کرنا


سوال

جہاں شرائط مفقود ہونے کے باوجود نماز جمعہ شروع ہو چکا ہے اس کے ختم کرنے یا باقی رکھنے کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟كيا ايسے مسئلے ميں امام شافعى -رحمہ اللہ تعالی- کے مسلک پر عمل کیا جاسکتا ہے؟

جواب

             فقہاے کرام کے نزدیک جمعہ کی ادائیگی شرائط پر موقوف ہے اور جہاں شرائط مفقود ہوں، وہاں نماز جمعہ کی ادائیگی درست نہیں۔ اس کے باوجود اگر کسی جگہ نماز جمعہ شروع ہو چکی ہو ، تو علما کو چاہیے کہ ان کو حکمت کےساتھ  یہ مسئلہ سمجھائیں اور ان کو نماز جمعہ کی بجائے ظہر پڑھنے کی تاکید کریں ، لیکن اس کے باوجود اگر وہ لوگ اپنے اس فعل پر ڈٹے رہیں اور منع کرنے سے ان کا آپس میں انتشار  وفتنہ برپا ہونے کا خطرہ ہوتو ایسی جگہ میں لوگوں کو منع نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اگر وہاں  چالیس افرادموجود ہوں تو   ایسی صورت میں فتنہ انگیزی سے بہتر ہے کہ دوسرے فقہاے کرام کے اقوال کا سہارا لے کر مسلمانوں کو افتراق اور انتشار سے بچایا جائے ۔

 

لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها۔ ( بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في بيان شرائط الجمعة، ج:1، ص:259)

وقال الشيخ عبد الرحمن العمادي رحمه الله تعالى في مقدمته: إعلم أنه يجوز للحنفي تقليد غير إمامه من الأئمة الثلاثة رضي الله عنه فيما تدعو إليه الضرورة بشرط أن يلتزم جميع ما يوجبه ذلك الإمام في ذلك۔(خلاصة التحقيق في بيان حكم التقليد والتلفيق لعبد الغني النابلسي، ص:22)


فتویٰ نمبر : 8969/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں