بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
نماز جمعہ کا مستحب وقت
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے کہ علامہ حصکفی ؒ فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ گرمی اور سردی دونوں زمانوں میں اصل اور استحباب کے اعتبار سے ظہر کی طرح ہے ،جبکہ علامہ شامی ؒ اور دیگر فقہائےکرام فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ میں مطلقا تعجیل مستحب ہے یعنی موسم گرما اور سرما دونوں میں تعجیل اولیٰ ہے،فریقین کے اقوال مع الدلائل درجہ ذیل ہیں:1۔ عن أنس بن مالك رضي الله عنه: «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي الجمعة حين تميل الشمس»۔(الصحيح البخاري،باب وقت الجمعة إذا زالت الشمس،ج:1،ص:195)2(وجمعة كظهر أصلا واستحبابا) في الزمانين؛ لأنها خلفه۔(قوله: أصلا) أي من جهة أصل وقت الجواز، وما وقع في آخره من الخلاف.(قوله: واستحبابا في الزمانين) أي الشتاء والصيف ح، لكن جزم في الأشباه من فن الأحكام أنه لا يسن لها الإبراد. وفي جامع الفتاوى لقارئ الهداية: قيل إنه مشروع؛ لأنها تؤدى في وقت الظهر وتقوم مقامه، وقال الجمهور: ليس بمشروع؛ لأنها تقام بجمع عظيم، فتأخيرها مفض إلى الحرج ولا كذلك الظهر وموافقة الخلف لأصله من كل وجه ليس بشرط.(ردالمحتارمع الدرالمختار،كتاب الصلاة،ج:2،ص:25)3۔وقال الموفق:"ويصليها في اول وقتها في الشتاءوالصيف،كان النبي صلي الله عليه وسلم كان يعجلها بدليل الاخبار التي رؤياها،ولأن الناس يجتمعون لها في اول وقتها ويبكرون إليها قبل وقتها فلوانتظر الابراد لشق علي الحاضرين،وانما جعل الابراد في الظهر في شدة الحر،دفعا للمشقةالتي يحصل اعظم منها بالابراد بالجمعة۔"(الكنزي المتواري،ج:6،ص:62)4۔ قال الامام العلامة بدرالدين العيني:والأصل في الجمعة، التبكير لأن يوم الجمعة يوم اجتماع الناس وازدحامهم، فإذا أخرت يشق عليهم۔(عمدةالقاري،باب إذا اشتدالحر يوم الجمعة،ج:6،ص:300)5۔فقیہ العصر قطب الارشاد حضرت مولانا رشید گنگوہیؒ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:گرمی میں تاخیرکرنا اور جاڑے میں جلدی کرنا ظہر وجمعہ میں برابر ہے۔(فتاوی رشیدیہ،ص257،ادارہ اسلامیات لاہور)آپ حضرات کی خدمت اقدس میں عرض یہ ہے کہ فریقین کے اقوال میں سے قول راجح کی تعین کرکے بندہ کی ذہن میں فریقین کے دلائل سے پیدا شدہ خلجان کو دور فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ جمعہ کی نماز کا وقت وہی ہے جو ظہر کی نماز کا ہے ،البتہ ظہر کی نماز اگر گرمی میں ہو تو اس میں تاخیر مستحب ہےاور اگر سردی میں ہو تو تعجیل مستحب ہے،جب کہ جمعہ کی نماز میں صرف تعجیل ہی مستحب ہے،اس لیے جمہور فقہاکے نزدیک تاخیرنہیں کرنی چاہیے،کیونکہ جمعہ کی نماز میں لوگوں کی بڑی تعداد ہوتی ہےتاخیر سے لوگوں کو تکلیف کا احتمال ہے،اس لیے جلدی کرنا بہتر ہے۔
عن أنس بن مالك رضي الله عنه: «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي الجمعة حين تميل الشمس»۔(صحيح البخاري،باب وقت الجمعة إذا زالت الشمس،ج:1،ص:307)
جزم في الأشباه من فن الأحكام أنه لا يسن لها الإبراد۔۔۔ وقال الجمهور: ليس بمشروع؛ لأنها تقام بجمع عظيم، فتأخيرها مفض إلى الحرج ولا كذلك الظهر وموافقة الخلف لأصله من كل وجه ليس بشرط.(ردالمحتارمع الدرالمختار،كتاب الصلاة،مطلب في طلوع الشمس من مغربها،ج:2،ص:25)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 245
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 575
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 411
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں