بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

جہاں نماز جمعہ واجب نہ ہو وہاں نماز جمعہ پڑھنے کا حکم


سوال

 جہاں نماز جمعہ درست نہ ہو اگر وہاں پر کوئی  جمعہ پڑھ لےتو اس پر شرعا ظہر کی نماز باقی اور لازم ہے کہ نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ  نماز جمعہ کے وجوب کے لیے شہر ، قریہ کبیرہ یا ان کے مضافات کا ہونا ضروری ہے ، لہذا جو جگہیں شہر ، قریہ کبیرہ یا ان کے مضافات کے حکم میں نہ ہوں تو وہاں نماز جمعہ واجب نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں پر ظہر کی نماز پڑھنا فرض ہے۔

          صورت مسٔولہ کے مطابق جہاں نماز جمعہ واجب نہ ہو اور لوگ وہاں پر نماز جمعہ پڑھ ليں تو شرعا ان پر ظہر کی نماز لازم ہے ، ظہر کی نماز ادا کیے بغیر ان لوگوں کا ذمہ فارغ نہ ہوگا۔

ٓ

لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع"۔(الهداية، كتاب الصلاة،باب صلاة الجمعة، ج:1، ص:82)

لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر۔(رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:138)


فتویٰ نمبر : 8963/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں