بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

قریہ کبیرہ کے اطراف والے علاقوں میں نماز جمعہ پڑھنے کا حکم


سوال

ایک بڑا گاؤں ہے جس کی آبادی تقریبا ڈھائی ، تین ہزار افراد پر مشتمل ہے اس میں اشیا خورد نوش کی پندرہ ، اٹھارہ دکانیں ، دو کلینک اور گاؤں کے ایک طرف متصل پرائمری سکول جبکہ مڈل اور ہائی سکول گاؤں سے باہر ہیں، ایک عرصے سے اس میں جمعہ وعیدین پڑھی جارہی ہے ، لیکن اس گاؤں کے مضافات (بادیۃ یعنی بانڈے) میں چاروں اطراف تقریبا میل دو میل کے فاصلے پر بھی کچھ لوگ رہائش پذیر ہیں ، ان میں سے دو بادیوں میں نماز جمعہ ابھی ابھی شروع  ہوا ہے اور باقی اطراف والے لوگ بھی جمعہ شروع کرنے کے خواہشمند ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ گاؤں کے اطراف واکناف یعنی بادیہ میں رہنے والے لوگوں پر نماز جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ نیز کیا درمیان میں کھیتوں اور خالی زمین کا واقع ہونا مضافات (اطراف) میں صحت جمعہ کے لیے مانع ہے یا نہیں؟

جواب

            نماز جمعہ کے وجوب کے لیے دیگر شرائط کے علاوہ علاقے کا مصر، فنائے مصر ، قریہ کبیرہ اور یا اس كے مضافات کا ہونا ضروری ہے، فنائے مصر یا مضافات قریہ کبیرہ کے بارے میں عرف کو مدار بنایا جائے گا ، لہذا شہر کے لوگ جن لوگوں کے ساتھ غمی خوشی میں شریک ہوں اور اس جگہ کے لوگ اپنی ضروریات اسی شہر یا قریہ کبیرہ سے پورے کرتے ہوں اور ان کی نسبت اسی شہر یا قریہ کبیرہ کی طرف ہوتی ہو تو یہ لوگ اسی شہر کے مضافاتی کہلائیں گےاگر چہ ان کے درمیان زرعی يا خالی زمین واقع ہو اور جو علاقے عرف میں شہر یا قریہ کبیرہ کے مضافات  كی بجائے مستقل بستیاں یا گاؤں شمار ہوتے ہوں اور ان میں شرائط جمعہ موجود نہ ہوں تو وہاں جمعہ پڑھنا جائز نہ ہوگا۔

           صورت مسٔولہ میں اگر مذکورہ قریہ کبیرہ کے اطراف کی آبادی عرف میں اسی  کے مضافات شمار ہوتے ہوں اور اطراف والے لوگ اپنی ضرورت اسی قریہ کبیرہ سے پورے کرتے ہوں تو پھر یہ اطراف قریہ کبیرہ کے مضافات اور توابع  کے حکم میں ہوں گے اور ان لوگوں کے لئے  وہاں نماز جمعہ شروع کرنا صحیح ہوگا ، لیکن اگریہ اطراف عرف میں قریہ کبیرہ کے مضافات شمار نہ ہوتے ہو بلکہ یہ الگ بستیاں یا گاؤں  شمارکیے جاتے ہوں تو  پھر ان کے لیے نماز جمعہ پڑھنا اور شروع کرنا جائز نہ ہوگا ۔

 

لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها۔ ( بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في بيان شرائط الجمعة، ج:1، ص:259)

وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق۔ (رد المحتار، كتاب الصلاة،باب الجمعة،ج:2، ص:138)

ومن كان مقيما بموضع بينه وبين المصر فرجة من المزارع والمراعي نحو القلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع وإن كان النداء يبلغهم والغلوة والميل والأميال ليس بشيء هكذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، ج:1، ص:145)


فتویٰ نمبر : 8962/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں