بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ڈاکٹر پرضمان کاحكم


سوال

ایک جونیئر ڈاکٹر سے دورانِ ڈیوٹی مریض کے علاج میں کوشش کے باوجو دبھی کمی رہ جائے ،اگر چہ اس نے مریض کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن کچھ چیزوں میں غلطی ہو گئی ،اس صورت میں مریض کی جان چلی جائے تو اسکا کیا کفارہ ہو گا؟جب کہ ڈاکٹر کو مریض کے لواحقین کا کچھ پتہ نہیں ۔ڈاکٹر پر کوئی الزام نہیں ہے مگر ڈاکٹر کو افسوس ہے کہ اس سے کوشش کے بعد بھی غلطی ہو گئی۔

جواب

              واضح رہے کہ اگر کوئی ڈاکٹر یا  سرجن باضابطہ سندیافتہ ہو اور بقدر وسعت پوری طبی تدابیر اور کامل احتیاط ملحوظ رکھ کر کسی مریض کا علاج یا آپریشن کرے اوراتفاقی طور سے وہ ناکام ہوجائے جس سےمریض ہلاک ہوجائے تو شرعا اس پر کوئی ضمان نہ ہوگا،کیونکہ اگر ڈاکٹر کو اس قسم کے واقعات اور حادثات کے اندر ضامن قرار دیا جائے تو کوئی علاج کی جرأت نہیں کرے گا جس سے سب لوگوں کا نقصان ہو گا تا ہم اگر کہیں کوئی ڈاکٹر بقدر وسعت طبی احتیاط ملحوظ نہ رکھے تو  مریض کو پہنچنے والے نقصان یا اس کی جان کے تاوان کا ضامن ہو گا۔

          مسئولہ صورت میں اگر مستند ڈاکٹر سے علاج میں بقدر وسعت خیال رکھنے  کے باوجود کہیں غلطی واقع ہوگئی ہوتو شرعا اس پر کوئی ضمان نہ ہو گا ،لیکن اگر مریض کا علاج کرنے میں وہ  بے احتیاطی کا مرتکب ہواہو تو وہ نقصان کا ضامن ہوگا ۔ 

 

(ولا ضمان على حجام، ولا ختان، ولا متطبب، إذا عرف منهم حذق الصنعة، ولم تجن أيديهم) وجملته أن هؤلاء إذا فعلوا ما أمروا به، لم يضمنوا بشرطين: أحدهما أن يكونوا ذوي حذق في صناعتهم، ولهم بها بصارة ومعرفة؛ لأنه إذا لم يكن كذلك لم يحل له مباشرة القطع، وإذا قطع مع هذا كان فعلا محرما، فيضمن سرايته، كالقطع ابتداء. الثاني أن لا تجني أيديهم، فيتجاوزوا ما ينبغي أن يقطع فإذا وجد هذان الشرطان. لم يضمنوا؛ لأنهم قطعوا قطعا مأذونا فيه، فلم يضمنوا سرايته كقطع الإمام يد السارق(المغنى لابن قدامة،فصل استأجر حجاما،ج:6،ص:133/134)

"وإذا فصد الفصاد أو بزغ البزاغ ولم يتجاوز الموضع المعتاد فلا ضمان عليه فيما عطب من ذلك.(الهداية، باب ضمان الاجير،ج:3،ص:437)

الفصاد والبزاغ والحجام والختان لا يضمنون بسراية فعلهم إلى الهلاك إذا لم يجاوز الموضع المعتاد المعهود المأذون فيه وهي معروفة ولو شرط عليهم العمل السليم عن السراية بطل الشرط إذ ليس في وسعهم ذلك قال في الفصولين: هذا إذا فعلوا فعلا معتادا ولم يقصروا في ذلك العمل ،أما لو فعلوا بخلاف ذلك ضمنوا۔(مجمع الضمانات،النوع العاشر ضمان الفصاد ومن بمعناه،ص:48)


فتویٰ نمبر : 2944/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں