بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حالت کفر میں محار م سے نکاح کے بعد قبول اسلام


سوال

ایک شخص نے حالت کفر میں محارم میں سے کسی محرم سے نکاح کیا اور پھر دونوں نے اسلام قبول کیا، تو کیا اسلام کے بعد ان کا نکاح قائم رہےگا یا تفریق کی جائے گی؟

جواب

             اگر کسی شخص نے  حالت کفر  میں کسی عورت سے نکاح کیا،اور پھر دونوں نے اسلام قبول کیا،تواگر  ان کو نکاح پر برقرار رکھنااسلام میں جائز ہو تو بغیر تجدید نکاح کےبدستور  بر قرار رکھا جائے گا ، اور اگر وہ نکاح اسلام میں حرام  ہو،تو زوجین میں تفریق کی جائے گی۔

           صورت مسئولہ کے مطابق جس شخص نے حالت کفر میں محرم سے نکاح کیاہو،پھر دونوں اسلام قبول کریں ، تو  چونکہ اسلام میں یہ نکاح  باقی نہیں رکھا جا سکتا اس لئے ان دونوں  میں تفریق کی جائے گی۔

 

 أما  المحرمات  بالنسب ما نص اللہ  تعالی في  قوله[حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ۔۔۔] الآیۃ۔ (فتاوی قاضی خان، کتاب النکاح، باب في محرمات ،ج:1،ص:314)

(وَلَوْ كانت مُحَرَّمَةً فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ) أَيْ لو كانت مَنْكُوحَةُ الْكَافِرِ مَحْرَمًا له أَيْ لِلزَّوْجِ بِأَنْ كانت أُمَّهُ أو أُخْتَهُ فَأَسْلَمَ أَحَدُهُمَا أو كِلَاهُمَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا.(تبيین الحقائق،کتاب النکاح، باب نکاح الکافر،ج:2 ،ص:182)


فتویٰ نمبر : 6329/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں