بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وطی اور جماع کی تعریف، دونوں میں فرق اور ان کا حکم


سوال

 وطی اور جماع کسے کہتے ہیں؟ دونوں میں کیا فرق ہے؟ اور دونوں کا حکم کیا ہے؟

جواب

فقہاے کرام کے نزدیک وطی اور جماع میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کا معنی ایک ہے یعنی مرد کا اپنے عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ میں اس طرح داخل کرنا کہ مرد کے عضو تناسل کا حشفہ (سپاری ) عورت کی شرمگاہ میں غائب ہوجائے۔ دونوں کا حکم یہ  ہےکہ اگر وطی اپنی بیوی یا باندی کے ساتھ ہو تو یہ حلال ہےبشرطیکہ کہ ایام حیض اور نفاس میں نہ ہو  کیونکہ ان میں وطی حرام ہے۔جب کہ ان کے علاوہ کسی دوسری عورت سے ہمبستری(وطی) کرنا حرام ہے۔

وطىء (المرأة) يطؤها (: جامعها)۔(تاج العروس،ج:1، ص:492، الباب: وطأ)

الوطء ففعل معلوم وهو إيلاج فرج الرجل في فرج المرأة (تحفة الفقهاء، كتاب الحدود، ج:3، ص:138)

(يمنع صلاة) مطلقا ولو سجدة شكر (وصوما) وجماعا۔(قوله يمنع) أي الحيض وكذا النفاس خزائن۔۔۔ (قوله وجماعا) أي يحرمه۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحیض، باب الطهارة،ج:۱، ص:485)

فيحل للزوج وللمالك النظر والمس من قرنها إلى قدمها عن شهوة ويحل الاستمتاع في الفرج وما دون الفرج إلا في حالة الحيض فإنه لا يباح الوطء في هذه الحالة ما لم تطهر۔ (تحفة الفقهاء، كتاب الاستحسان،ج:3، ص:331)

الزنا هو الوطء في فرج المرأة العاري عن نكاح أو ملك أو شبهتهما ويتجاوز الختان الختان هذا هو الزنا الموجب للحد وما سواه ليس بزنا۔ ( الجوهرة النيرۃ، کتاب الحدود، ج:2، ص:147)


فتویٰ نمبر : 4863/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں