بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

محلہ کی مسجد میں مسافروں کا جماعت ثانیہ کرنا


سوال

مسافروں کے لیے محلّہ کی مسجد میں جماعت ثانیہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ایک مولانا صاحب کہتے ہے کہ مسافروں کے لیے جماعت ثانیہ کرنا جائز ہے  اس لیے کہ غیر مقیمین (مسافروں)کی جماعت کی وجہ سے اصل جماعت متاثر نہیں ہوتی اور جماعت ثانیہ کی ممانعت کی علّت اصل جماعت  کا متاثر ہونا ہے جوکہ یہاں مفقود ہے اس وجہ سے غیر مقیمین (مسافروں)کے لیے جائز ہے اور دلیل میں بدائع الصنائع کا حوالہ پیش  کرتےہے "وتقليل الجماعة مكروه، بخلاف المساجد التي على قوارع الطرق؛ لأنها ليست لها أهل معروفون، فأداء الجماعة فيها مرة بعد أخرى لا يؤدي إلى تقليل الجماعات، وبخلاف ما إذا صلى فيه غير أهله؛ لأنه لا يؤدي إلى تقليل الجماعة؛لأن أهل المسجد ينتظرون أذان المعروف فيحضرون۔"

جواب

            واضح رہے کہ محلّہ کے لوگوں کے لیے محلّہ کی مسجد میں جماعت ثانیہ کرنا مکروہ ہے اور محلّہ کے لوگوں کے علاوہ باہر سے آنے  والوں کے لیے امام کے مصلیٰ سے ہٹ کرکےدوسری جگہ جماعت ثانیہ کرنا جائز ہے۔محلّہ کے لوگوں کے لیے جماعت ثانیہ اس لیے مکروہ ہے کہ اس کی وجہ سے پہلی جماعت جو اصل جماعت ہے وہ متاثر ہوجاتی ہے،کیونکہ لوگ اس پہلی جماعت کو کوئی اہمیت نہیں دیں گے،سستی اور غفلت کرکے دوسری جماعت کا انتظار کریں گے جو تقلیل جماعت کا باعث ہے اور باہر سے آنے والوں کے جماعت  ثانیہ کرنے میں چونکہ مذکورہ علّت (یعنی تقلیل جماعت)موجود نہیں،اس لیے ان کے لیے جماعت ثانیہ کرنا جائز ہے۔

            لہذا صورت مسئولہ میں مسافروں کے لیے محلّہ کی مسجد میں امام کے مصلیٰ سے ہٹ کرکے مسجد میں کسی بھی جگہ جماعت ثانیہ کرنا جائز ہے۔

 

وتقليل الجماعة مكروه، بخلاف المساجد التي على قوارع الطرق؛ لأنها ليست لها أهل معروفون، فأداء الجماعة فيها مرة بعد أخرى لا يؤدي إلى تقليل الجماعات، وبخلاف ما إذا صلى فيه غير أهله؛ لأنه لا يؤدي إلى تقليل الجماعة۔(بدائع الصنائع،كتاب الصلاة،فصل في بيان محل وجوب الأذان،ج:1،ص:655)


فتویٰ نمبر : 8961/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں