بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

پاک دامن عورت سےزانی کے نکاح کا حکم


سوال

ايک زانی مرد جو زنا سے توبہ کرچکا ہے اس کا نکاح کسی غیر زانیہ پاک دامن لڑکی سے جائز ہوسکتا ہے یا نہیں؟  قرآن کی سورہ نور میں ارشاد  ہے کہ زانی مرد کے لیے زانیہ عورت اور اس طرح زانیہ کے لیے زانی  مرد ہے اور مومنین سے ان کا نکاح حرام ہے ؟

جواب

             جمہور فقہائے  امت،امام اعظم ابو حنیفہ ؒوما لک وشافعی  رحمہم اللہ کےنزدیک زانی مرد یا زانیہ عورت کا نکاح زانی یا زانیہ سے یا پاک دامن مرد یا پاک دامن عورت سے جائز ہے ۔ فقہا کا یہ قول بظاہر مفہوم آیت (الزانی لا ینکح الا زانية ۔۔۔الخ) کےخلاف ہےاس لیے مفسرین حضرات  نے اس آیت کی تشریح میں یہ ارشادفرمایا ہے کہ جمہور علماء امت کے نزدیک اس آیت میں نہی تحریم کے لیے نہیں بلکہ مذمت کے لئے ہے ۔تفسیر روح المعانی میں ہے کہ اس آیت کریمہ میں کوئی حکم شرعی نہیں بلکہ عام مشاہدہ اور تجربہ کی بنیاد پر زنا کے برے اثرات کا ذکر ہے کہ اس سے انسان کا مزاج متاثر ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان حلال وحرام کے مابین کوئی فرق نہیں کرتا ،چنانچہ زانی فاسق ہوتا ہے اس لیے پاک دامن نیک عورت سے نکاح کرنے کی طرف اس کی رغبت نہیں ہوتی اور زانیہ بھی فاسقہ ہوتی ہے اس لیے نیک مردوں کو بھی اس سے نکاح کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا،لیکن  اگرزانی نےپاک دامن عورت سےنکاح کیاتوشرعانکاح منعقدہوجائےگا۔اسی طرح تفسیر روح المعانی میں یہ بھی لکھاہےکہ  آیت میں فلاینکح کامعنی ہے" لا یلیق به أن ینکح "یعنی پیشہ ور زانیہ سے نکاح کرنا مومن کی شان کے لائق نہیں اسی طرح پیشہ ور زانی سے نکاح کرنا مومنہ کی شان کے لائق نہیں،اگر چہ ان کےساتھ نکاح شرعاباطل نہیں ۔

ان تفاسیرسےمعلوم ہوا کےآیت  میں نہی تحریم کےلیے نہیں بلکہ مذمت کے لیے ہے ، علاوہ ازیں تفسیر بغوی میں ہے کہ سعید ابن مسیب اور اہل تفسیر کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے۔ اس آیت کی وجہ سےزانیہ سےنکاح حرام تھا لیکن جب سورہ نساء کی آیت ''وانکحوا الایامیٰ منکم ''نازل ہوئی تو اس سے حرمت منسوخ ہوگئ ،چونکہ زانیہ بھی ایامی (غیر منکوح مردوزن)میں داخل ہے اس لیے اس کے ساتھ نکاح بھی جائز ہوگا ۔ لہٰذا مذکورہ آیت کی وجہ سے پاک دامن خاتون کے ساتھ زانی کے نکاح کو ناجائز سمجھنا درست نہیں ۔

 

وقال النيسابوري: إنه أحسن الوجوه في الآية أن قوله سبحانه: الزاني لا ينكح إلخ حكم مؤسس على الغالب المعتاد جيء به لزجر المؤمنين عن نكاح الزواني بعد زجرهم عن الزنا وذلك أن الفاسق الخبيث الذي من شأنه الزنا والتقبح لا يرغب غالبا في نكاح الصوالح من النساء اللاتي على خلاف صفته وإنما يرغب في فاسقة خبيثة من شكله أو في مشركة والفاسقة الخبيثة المسافحة كذلك لا يرغب في نكاحها الصلحاء من الرجال وينفرون عنها وإنما يرغب فيها من هو من شكلها من الفسقة والمشركين۔

الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلَّا زانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً تقبيح لأمر الزاني أشد تقبيح ببيان أنه بعد أن رضي بالزنا لا يليق به أن ينكح العفيفة المؤمنة۔۔۔ وإنما يليق به أن ينكح زانية هي في ذلك طبقه ليوافق ...الخ( روح المعاني لمحمود الآلوسي،ج : 18،ص:85.84)

(أو) الموطوءة (بزنى) أي جاز نكاح من رآها تزني، وله وطؤها بلا استبراء، وأما قوله تعالى:﴿والزانية لا ينكحها إلا زان﴾(النور: 3)فمنسوخ بآية﴿فانكحوا ما طاب لكم من النساء﴾(النساء 3)(الدرالمختارعلی صدرردالمحتار،کتاب النکاح، فصل فی المحرمات ،ج:4،ص:14)۔

قال سعيد بن المسيب وجماعة: إن حكم الآية منسوخ، فكان نكاح الزانية حراما بهذه الآية فنسخها قوله تعالى: "وأنكحوا الأيامى منكم" فدخلت الزانية في أيامى المسلمين۔ (تفسيرالبغوي لحسين البغوي ،ج: ,3ص: 322)


فتویٰ نمبر : 6351/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں