بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

مروجہ کمیٹی کے ذمہ دار شخص کااجرت لینا


سوال

ہم دکانداروں  نے آپس میں  مہینے  کے اعتبار  سے   کمیٹی  (( B.Cشروع کی ہے، ساری کمیٹی کی  رقم زید  خود مہینے  کے شروع میں  سا رے دکانداروں  سے جمع کرتا ہے،زید نے تمام  کمیٹی  والے حضرات سے یہ بھی کہا ہے کہ سب  سے پہلے کمیٹی میں  لونگا، زید کی اس بات پر سارے کمیٹی اراکین  راضی ہوگئے،زید کا  یہ شرط  لگانا درست ہے یا نہیں ۔ اس میں  زید نے پہلے سے  دکانداروں  سے یہ بات طے کی تھی،کہ ہر شخص کی کمیٹی  نکلنے پر میں  پانچ سو(500) روپے     لونگا،یہ اس وجہ سے کہ میں  آپ  لوگوں  کے پاس دوکان  سے  وقت نکال  کر آتا ہوں جس میں   کبھی  موٹر سائیکل  استعمال  کرتا ہوں  اور  کبھی پیدل چل کر آتا ہوں ، زید کے اس بات پر سارے دکاندار راضی بھی ہیں۔اب  دریافت طلب  امریہ ہے کہ اس میں  کچھ  حضرات ایسے  ہیں ، جو  خود زید کے پاس کمیٹی لے کر آتے  ہیں ، تو زید کے لیے   ان  دونوں  حضرات سے یعنی   جن کے پاس زید خود جاتاہے اور جو حضرات خود  زیدکے پاس کمیٹی لے کر آتے ہیں پانچ سو (500)      روپے لینا  شرعا کیساہے؟   اسی طرح        زید نے   تمام کمیٹی اراکین  سے کہا ہے اگر کوئی شخص  کمیٹی کے دوران  نکلنا چا ہے تو اس کی جمع  شدہ رقم   اس کو  سب سے آخر میں   ملے گی، اس پر   سب  راضی  ہوگئے،زید   کے لیے   یہ شرط  لگا نا  کیسا ہے؟

جواب

           کمیٹی کا ذمہ دار شخص باقی  ار کان  کی طرح قرعہ  اندازی کے ذریعے ایک قسط  لینے کا حق دار ہے ، تا ہم  کمیٹی   کے  شرکا  کا پہلی  قسط  بغیر قرعہ  اندازی کے  ذمہ  دار کو  دینا اس کے  ساتھ  تبرع  اور احسان   ہے۔ اپنی قسط  کے علاوہ   چونکہ وہ    کچھ نہ کچھ وقت نکال کر    شرکا سے قسط اکٹھا کر کے محفوط  رکھتا ہے اور پھر ہر ماہ    قرعہ اندازی کا   اہتمام   کرتا ہے، اس لیے وہ اس خدمت کےعوض اجرت کا مطالبہ کر سکتا   ہے،   نیزجو حضرات خود زید  کے پاس کمیٹی لے کر آتے   ہیں اگر انہوں  نے  پہلے سے طے کیا ہو  کہ   ہم خود  لائیں  گے   اس لیے  ہم  سےاجرت   نہیں  لو گے  تو تب ان سے اجرت  کاٹنا  درست  نہیں ،لیکن اگر انہوں نے  بھی رضا مندی کا اظہار کیا ہو  ،تو ان سے بھی  لے سکتا ہے۔اسی  طرح جوکوئی شخص کمیٹی کے دوران نکلنا چاہے تو اس کی جمع شدہ  رقم اس کو سب سے  آخر میں    دینے کی  شرط  کی  بھی گنجائش ہے،لیکن     بہتر یہ ہے کہ نکلنے کے وقت اس کو رقم واپس  کر دی جائے۔

 

 الإجارة نوعان:  نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور والأراضي ۔۔۔ ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال۔(الفتاوی الهندية،كتاب الإجارة،الباب الأول في بيان تفسيرالإجارة وأركانها،ج:4،ص:411)


فتویٰ نمبر : 2925/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں