بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے ساتھ متصل کمروں میں جماعت ثانیہ پڑھنا


سوال

مسجد کے متصل کمروں میں جماعت ثانیہ کرنا شرعا کیسا ہے؟ایک مولانا صاحب کہتے ہے کہ ان کمروں میں جماعت ثانیہ کرنا صحیح نہیں ہے،فرماتے ہے کہ مولانا محمود حسن گنگوہی ؒ نے اپنی مسجدمیں جماعت ثانیہ فوت ہونے والوں کو مسجد کے صحن اور متصل کمروں میں بھی جماعت ثانیہ سے منع فرماتےتھے اور ممانعت کی علت تقلیل جماعت بتاتے تھے اور فرماتے کہ اگر صحن اور متصل کمروں میں اجازت دی جائے تو مسجد کی جماعت متاثر ہوگی۔

جواب

            واضح رہے کہ جو مسجدیں محلہ اور آبادی سے متعلق ہوتی ہیں ایسی مسجدوں میں مقامی لوگوں کے لیے جماعت ثانیہ کرنا مکروہ ہے چاہے امام کے مصلی ٰ سے ہٹ کر کے ہیئت  بدل کر ہی کیوں نہ ہو،اس لیے کہ جماعت ثانیہ تقلیل جماعت کا سبب بنتی ہے ،البتہ مسجد سے متصل وہ کمرے جو مسجد کے حکم میں نہ ہوں ان میں جماعت ثانیہ پڑھنا اگر واقعی مسجد میں پڑھی جانے والی جماعت کی تقلیل کا باعث ہو تو پھر مکروہ ہے ورنہ نہیں ۔

            لہذا صورت مسئولہ میں مسجد کے ساتھ متصل کمرہ جو خارج از مسجد ہو تو خارج مسجد ہونے کی وجہ سے اس میں جماعت ثانیہ پڑھنا اگر چہ بنفسہ مکروہ نہیں ،البتہ اگر لوگوں نے معمول بنایا کہ تاخیر سے آکر دوسرے  کمرے میں نماز پڑھتے ہوں جوکہ مسجد میں پڑھی جانے والی جماعت کی تقلیل کا باعث بنتی ہو تو پھر ان کمروں میں بھی جماعت ثانیہ پڑھنا کراہت سے خالی نہیں،کیونکہ جماعت   ثانیہ کی کراہت کی علت جو فقہائے کرام نے ذکر کی ہے یعنی تقلیل جماعت وہ یہاں پر بھی پائی جاتی ہے۔

 

(ولنا) ما روى عبد الرحمن بن أبي بكر عن أبيه - رضي الله عنهما - أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - خرج من بيته ليصلح بين الأنصار لتشاجر بينهم فرجع وقد صلى في المسجد بجماعة فدخل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في منزل بعض أهله فجمع أهله فصلى بهم جماعة، ولو لم يكره تكرار الجماعة في المسجد لما تركها رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مع علمه بفضل الجماعة في المسجد.(بدائع الصنائع،كتاب الصلاة،فصل في بيان محل وجوب الأذان،ج:1،ص:655)

ولأن التكرار يؤدي إلى تقليل الجماعة؛ لأن الناس إذا علموا أنهم تفوتهم الجماعة فيستعجلون فتكثر الجماعة، وإذا علموا أنها لا تفوتهم يتأخرون فتقل الجماعة، وتقليل الجماعة مكروه، بخلاف المساجد التي على قوارع الطرق؛ لأنها ليست لها أهل معروفون، فأداء الجماعة فيها مرة بعد أخرى لا يؤدي إلى تقليل الجماعات، وبخلاف ما إذا صلى فيه غير أهله؛ لأنه لا يؤدي إلى تقليل الجماعة۔(بدائع الصنائع،كتاب الصلاة،فصل في بيان محل وجوب الأذان،ج:1،ص:655)


فتویٰ نمبر : 8955/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں