بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

مشترک زمین میں عمل کرنے والے شریک کے لیے اضافی مقدار کی شرط لگانا


سوال

 ہمارے یہاں رواج ہے کہ جو آدمی زمین کا مالک ہو وہ اپنی زمین کسی کاشت کار کو اس شرط پر کاشت کاری کے لیے دیتا ہے کہ سارا خرچہ میرا ہوگا اور محنت تمہاری ہوگی اس میں ایک حصہ کاشت کارکا ہوتا ہے اور دو حصے مالک کے ہوتے ہیں ،اب مسئلہ یہ ہے کہ پانچ بھائی ہیں سب کی زمین مشترک ہے ابھی تقسیم نہیں ہوئی ،اب اس میں تین بھائیوں کا خاندان چھوٹا ہے وہ کاشت کاروں کوکاشت پر دیتے ہیں اور دو بھائیوں کا خاندان بڑا ہے وہ اپنی زمین بھائیوں سے کاشت کاری پر لے کر اجتماعی طور پر خرچہ کرنے کے بعد اس میں سے ایک تواپنی ملکیت کے بقدر حصہ لیتے ہیں اور رواج کے مطابق ان تین حصوں میں سے بھی ایک حصہ لیتے ہیں ،کیا اس طرح کاشت کاری جائز ہے یا ناجائز؟اس بارےمیں رہنمائی فرمائے۔

جواب

          واضح رہے کہ عقد مزارعت میں اگرزمین اور بیج عاقدین کے درمیان مشترک ہوں اور عمل ایک جانب سے ہو تو ایسی صورت میں اگر عامل کواس کے عمل کے عوض اس کے حصے سے زیادہ مقدارمتعین کر دی جائے   تویہ جائز نہیں،حصوں کے بقدر  تقسیم ضروری ہے البتہ شریک کو الگ عقد کے ذریعے بطور اجیر مقرر کرنااور کام کے بدلے تنخواہ دینا جائز ہےاوراگرمشترک زمین میں  بيج كا خرچہ عامل شریک  پر ہو تو ایسی صورت میں اس کے لئے اس کے حصے سے زیادہ مقدار دینے کی شرط رکھناجائزہے ۔

               مسئولہ صورت کےمطابق اگر پانچ بھائیوں میں سے تین نے بقیہ دو  کو کل مشترکہ زمین مزارعت پر دی ہو اور کاشت کاری میں بیج وغیرہ کے   اخراجات اجتماعی طور پر برداشت کرتے ہوں تو عمل کرنے والوں کے لیے ان کے حصے سے زیادہ حصہ دینے کی شرط رکھنا جائز نہیں،البتہ  عمل کرنے والے شرکا   کے لیے  ان کے حصے کے علاوہ دیگر شرکا کے حصہ میں عمل کے  عوض  تنخواہ دینے کی شرط رکھنا جائز ہے،اسی طرح اگربیج کا خرچ صرف عمل کرنے والوں پر ڈالا جائے توپھر ان کے لئے ان کے حصہ ملکیت سے زیادہ حصہ مقرر کیا جاسکتا ہے ۔ 

 

وقال الحافظ العيني رحمه الله تعالى: وقيل: هاهنا نظران: الأول في قوله حيث لا يجب الأجر كيف يقول لا يجب، لأنه قد وجب وقبض وهو نصف الطعام، ثم يقول لأن المستأجر ملك الأجر. والثاني في قوله لأن ما من جزء يحمله إلا وهو عامل لنفسه نظر، فإن هذا ممنوع (إلى) ولكن الحق أن الجزء اللذي لشريكه ليس هو عاملا فيه لنفسه بل لشريكه فهو فى الحقيقة عامل لنفسه وعامل لشريكه فأخذه الأجرة في مقابلة عمله لشريكه.(البناية شرح الهداية، كتاب الأجارة، ج:7، ص: 322)

ولو كانت الأرض والبذر منهما وشرطا العمل على أحدهما على أن يكون الخارج بينهما نصفين جاز ويكون غير العامل مستعينا في نصيبه ولو كانت الأرض والبذر منهما وشرطا للدافع ثلث الخارج والثلثين للعامل لا يجوز في أصح الروايتين.)الفتاوى الهندية، كتاب المزارعة، الباب الثاني في بيان انواع المزارعة، ج:5،ص:276)

ولا يشبه هذا المزارعة؛ لأن الأرض إذا كانت مشتركة بين اثنين دفعها أحدهما إلى صاحبه مزارعة على أن يزرعها ببذره،وله ثلثا الخارج أنه تجوز المزارعة؛ لأن هناك لم يتحقق الاستئجار للعمل في شيء الأجير فيه شريك المستأجر لانعدام الشركة في البذر.(بدائع الصنائع،فصل في شروط الفاسدة للمعاملة،ج:8،ص:288)


فتویٰ نمبر : 2931/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں