بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ورثا کے درمیان تقسیم میراث اور ہبہ و ترکہ کے مسائل


سوال

ہمارا دس مرلے کا گھر ہے، 1991 میں والد صاحب نے اس کا انتقال ہم دو بھائیوں اور ہماری والدہ کے نام کیا تھا، والدہ 2004 میں فوت ہوئی تھی اور والد صاحب کا انتقال اگست 2021 میں ہوا ہے،اب ہم میراث تقسیم کرنا چاہتے ہیں،میرا ایک بھائی اور چار بہنیں ہیں، اب میراث کا کیا طریقہ کار ہوگا؟ (1) یہ گھر میراث میں تقسیم ہوگا یا نہیں، جب کہ والد صاحب نے اس کا انتقال ہم دو بھائیوں اور والدہ کے نام کیا تھا۔(2) میرے پاس ایک ذاتی گاڑی تھی، والد صاحب نے مجھے پانچ لاکھ روپے دے کر کہا کہ اس سے گاڑی کو بہتر بناؤ (یعنی اچھی گاڑی خرید لو) لیکن میں نے گاڑی نہیں خریدی بلکہ وہ رقم میرے پاس اسی طرح پڑی ہے، تو کیا اس رقم کو میراث میں تقسیم کیا جائے گا یا نہیں؟ اس کے علاوہ ساڑھے تین لاکھ روپے بینک بیلنس بھی ہے، اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟

 

جواب

ميــــــــــــــــــــــ(8)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

  بیٹا         بیٹا          بیٹی        بیٹی        بیٹی        بیٹی

   2          2            1          1            1          1

            بشرط صدق و ثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ کوئی اور قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ آٹھ(8) حصوں میں تقسیم کر کے بیٹوں میں سے ہر ایک کو2/8 حصے اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 1/8حصہ دیا جائے گا۔

  1. اگر والد نے اپنے بیٹوں اور بیوی کے نام گھر کا انتقال کر کے ان کو قبضہ بھی دیا تھا تو یہ گھر اس کی ملکیت سے نکل کر بیٹوں اور بیوی کی ملکیت میں داخل ہونے کی وجہ سے والد کے ترکہ میں شمار نہیں کیا جائے گا، تاہم اگر اس نے صرف انتقال ان کے نام کیا ہو اور اپنی زندگی میں ان کو قبضہ نہ دیا ہو تو اس صورت میں یہ گھر بدستور والد کی ملکیت میں رہے گا جو اس کی وفات کے بعد اس کے ترکہ میں شمار ہو کر اس کے شرعی ورثا کے درمیان اصول میراث کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
  2. اگر گاڑی بیٹے کی ملکیت میں تھی اور والد صاحب نے پانچ لاکھ روپے اس کو بہتر بنانے کے لیے بطور ہبہ دیے تھے تو قبضہ ہونے کی وجہ سے ہبہ تام ہوکر وہ رقم والد کی ملکیت سے نکل چکی تھی اس لیے اب اس کو والد کے ترکہ میں شمار نہیں کیا جائے گا، لیکن اگر گاڑی والد کی تھی تو اس صورت میں یہ رقم ہبہ شمار نہ ہوگی، اس لیے خرچ نہ ہونے کی صورت میں یہ رقم والد کی ملکیت میں برقرار رہ کر اس کے ترکہ میں شمار ہوگی۔ اس کے علاوہ والد کی وفات کے وقت اس کی ملکیت میں   جو بینک بیلنس وغیرہ موجود تھا وہ اس کے ورثا کے درمیان بقدر حصص تقسیم کیا جائے گا۔ 

 

قال اللہ تعالی:يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ. (النساء: 11)

(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل ۔ (الدر المختار علی صدر ردالمحتار، کتاب الهبة، ج:6،ص:664)

لأن تركة الميت ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الفرائض، ج:10،ص:493)


فتویٰ نمبر : 3143/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں