بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

مزارعت میں تخم کی شرکت


سوال

اگر مزارعت کے عقد میں زمین کے مالک پر تخم،ٹریکٹر اور فصل پردوائیوں کا خرچہ پورا کاپورا مقرر کر لے یا آدھا آدھا مالک زمین اور کاشتکار کے درمیان تقسیم کرکے مقرر کیا جائے تو یہ عقد شریعت کے لحاظ سے جائز ہے یا ناجائز ؟اگر ناجائز ہو تو جائز ہونے کی صورت واضح فرمائیں؟

جواب

            واضح رہے کہ عقد مزارعت میں فریقین (مالک زمین اور عامل)اگر یہ شرط لگائیں کہ تخم،ٹریکٹراور فصل پر دوائیوں کا جو خرچہ آئے وہ دونوں پرآدھا آدھا تقسیم ہوگا تو یہ صورت جائز نہیں،اس لیے کہ تخم میں شرکت جائز نہیں،بلکہ تخم مکمل طور پر کسی ایک کی طرف سے ہونا ضروری ہے،تاہم اگر مالک زمین عامل کے ساتھ محنت کرنے میں عملی طور پر برابر شریک ہو یا اپنی جگہ کسی مزدور کو لگائے یا مزدور کی اجرت عامل کو دے دے تو پھر تخم میں شرکت جائز ہے۔

            صورت مسئولہ میں عقد مزارعت میں تخم ،ٹریکٹر اور فصل پر دوائیوں کا جو خرچہ آئے اگر پورا کا پورا صرف مالک زمین پر لازم کیا جائے تو یہ صورت جائز ہے اور اگر مالک زمین اور عامل دونوں پر خرچہ آدھا آدھا تقسیم کیا جائے تو یہ صورت جائز نہیں،البتہ اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ مالک زمین عامل کے ساتھ محنت کرنے میں عملی طور پر برابر شریک ہو جائے یا اپنی جگہ کسی مزدور کو لگا دے یا عامل کو مزدور کی اجرت دے۔

 

 

أن يكون العمل من أحدهما والباقي من الآخر فهو جائز؛ لأن صاحب البذر يصير مستأجرا للعامل بشيء معلوم من الخارج ليعمل في أرضه ببقره وبذره۔(الفتاوی الهندية،كتاب المزارعة،الباب الثاني:في بيان أنواع المزارعة،ج:5،ص:275)

فإن كانت الأرض لأحدهما وشرطا أن يكون البذر منهما إن شرطا العمل على غير صاحب الأرض وشرطا أن يكون الخارج بينهما نصفين كانت فاسدة۔(الفتاوی الهندية،كتاب المزارعة،الباب الثاني:في بيان أنواع المزارعة،ج:5،ص:275)

ولو كانت الأرض والبذر منهما وشرطا العمل عليهما على أن يكون الخارج بينهما نصفين جاز لأن كل واحد منهما عامل في نصف الأرض ببذره فكانت هذه إعارة نصف الأرض لا بشرط العمل له۔(الفتاوی الهندية،كتاب المزارعة،الباب الثاني:في بيان أنواع المزارعة،ج:5،ص:276)


فتویٰ نمبر : 2927/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں