بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

منگنی میں رسمِ خالوط کا حکم


سوال

ہمارے ہاں منگنی کی ایک رسم ہوتی ہے جس کو خالوط کہتے ہے اور اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جب لڑکا لڑکی کے خاندان والے منگنی کی رسم پوری کر لیتے ہیں تو منگنی کی رسم میں جتنے لوگ ہوتے ہیں ان میں پیسے تقسیم کرتے ہیں اور جو پیسے تقسیم کیے جاتے ہیں اس کو کبھی تو دونوں والوں سے وصول کیا جاتا ہے جب دونوں خاندان والے مالدار ہوں اور کبھی صرف لڑکے کے خاندان سے یہ رقم وصول کی جاتی ہے اور کبھی لڑکی کے خاندان سے یہ رقم وصول کی جاتی ہےاور کبھی لڑکی کے خاندان غریب ہونے کی صورت میں لڑکی کے مہر سے اس رقم کو کاٹا جاتا ہے۔آپ حضرات سے یہ گزارش  ہے کہ اس کی شرعی حیثت واضح فرمائیں؟

جواب

               واضح رہے کہ خوشی کے موقع پر کیے جانے والے رسوم میں اگر کفار کی مشابہت نہ پائی جاتی ہو اور نہ اس میں کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی لازم آتی ہو تو ایسے رسم ورواج کو لازم کیے بغیر اختیار کرنے کی گنجائش ہے بشرط یہ کہ کسی کو اس کے اپنانے پر مجبور نہ کیا جائے اور نہ کرنے والے کو طعن وتشنیع کا نشانہ نہ بنایا جائے اور جو رسم ورواج ایسے ہوں کہ ان کے اپنانے  سے کفار کی مشابہت یا شرعی احکام کی خلاف ورزی لازم آتی ہوتو ایسے رسم ورواج کو اپنانا جائز نہیں۔

            صورت مسئولہ میں منگنی کی جو رسم "خالوط"کے نام سے بیان کی ہے اگر اس میں کسی کو پیسے دینے پر مجبور  نہ کیا جاتا ہو نہ ہی ماحول سے مجبور ہونا پڑتا ہو اور سب لوگ اپنی رضامندی سے رقم دیں تو اس کی گنجائش ہے،لیکن اگر اس میں رضامندی کے بغیر بھی لوگوں کو پیسے دینے پڑتے  ہوں تو پھر اس سے احتراز لازم ہے،کیونکہ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے کا مال اس کی رضاکے بغیر استعمال کرے۔جہاں تک مہر سے اس رقم کی کٹوتی کی بات ہے تو لڑکی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر جائز نہیں،کیونکہ مہر لڑکی کا حق ہوتا ہے اس میں تصرف کے لیے اس کی رضامندی ضروری ہے۔

 

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»۔(سنن أبي داؤد،كتاب اللباس،باب لبس الشهرة،ج:2،ص:559)

أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ"۔(السنن الكبرى للبيهقي،كتاب الغصب،باب غصب لوحا فأدخله في سفينة۔۔۔إلخ،ج:6،ص:166)

وكل مباح يؤدي إليه فمكروه انتهى.وحاصله أن ما ليس لها سبب لا تكره ما لم يؤد فعلها إلى اعتقاد الجهلة۔(الدرالمختار على صدر ردالمحتار،كتاب الصلاة،باب سجود التلاوة،ج:2،ص:598)

قلتُ: اللهو في النكاح وإن كان لغواً لكنه يُغمض عنه، بخلاف الرُّسوم في الموت۔(فيض الباري،كتاب النكاح،باب البنا بالنهار بغير مركب ولا نيران،ج:4،ص:297)


فتویٰ نمبر : 6340/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں