بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

عورت کا شوہر پر زنا کی تہمت لگانا


سوال

 اگر شوہر نے بیوی پر تہمت زنا لگائی تو لعان ہے لیکن اگر عورت نے یہ دعوی کیا کہ اس کےشوہر نے زنا کیا ہے ،تو اس کاکیا حکم ہے کیا یہاں بھی لعان ہو گا،یا  قذف کے حکم میں ہوگا؟

جواب

              واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے پر شہادت معتبرہ کے بغیر زنا کا الزام لگائے  تو اس  پر  حد قذف  لگائی جائے گی،لیکن شوہر کو اس حکم سے  اللہ تعالیٰ نے استثنا دیا ہے اس کے لیے اس صورت میں لعان کا حکم نازل کیا ہے ،البتہ اگر بیوی نے شہادت معتبرہ کے بغیر اپنے شوہر پر زنا کی تہمت لگائی،تو حد قذف جاری ہوگی ۔

 

قال اللہ تعالی:(وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ)(  سورۃ النور:4)

الثالثة : ذكر الله تعالى في الآية النساء من حيث هن أهم ورميهن بالفاحشة أشنع وأنكى للنفوس وقذف الرجال داخل في حكم الآية بالمعنى وإجماع الأمة على ذلك وهذا نحو نصه على تحريم لحم الخنزير ودخل شحمه وغضاريفه ونحو ذلك بالمعنى والإجماع وحكى الزهراوي أن المعنى : والأنفس المحصنات فهي بلفظها تعم الرجال والنساء ويدل على ذلك قوله : { والمحصنات من النساء } [ النساء : 24 ] وقال قوم : أراد بالمحصنات الفروج كما قال تعالى : { والتي أحصنت فرجها } [ الأنبياء : 91 ] فيدخل فيه فروج الرجال والنساء(الجامع الاحکام القرآن للقرطبی ،ج:12،ص:154)


فتویٰ نمبر : 6327/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں