بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

مرغ کی آنتوں کی خریدو فروخت کے رائج طریقہ کا حکم


سوال

مرغی فروش اکثر  مرغ کی آنتیں ڈیلر کو فروخت کرتے ہیں جس کا طریقہ  یہ ہوتا ہے کہ ڈیلر چند دن دکاندار کی روزمرہ فروخت کی مقدار کا اندازہ لگا لیتا ہے پھر اس حساب سے دکاندار سے معاہدہ کر لیتا ہے کہ تم جتنی مرغیاں فروخت کرو اس کی آنتیں مجھے دو گے جس کے بدلے میں تمھیں اتنی رقم دوں گا تو کیا  اس طرح سے مجھول مقدار میں آنتوں کی بیع کرنا جائز ہے یا نہیں نیزمذکورہ مبیع کے اوصاف بیان کر لینے کے بعد مذکورہ عقد جائز ہو سکے گا یا نہیں۔

جواب

        شریعت مطہرہ کی رو سے کسی چیز کے بیچنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ چیز موجود ہو اور بائع اس كی حوالگی پر قادر ہو البتہ اگر کوئی مبيع ايسی ہو جو بوقت عقد موجود تو نہ ہو لیکن اس کی جنس ،نوع ، صفت اور مقدار وغیرہ بیان کرنےسے اس کی تعیین ہو سکے اور عقد میں قیمت پیشگی ادا کرنے کی شرط ہو تو فقہی اصطلاح کی رو سے یہ بیع سلم کہلاتا ہے ۔ بیع سلم میں ضروری ہے کہ مبیع ایسی چیز ہو جو اوصاف  بیان کرنے سے متعین ہو سکتی ہو چنانچہ اگر کوئی چیز جنس ،نوع، صفت اور مقدار بیان کرنے کے بعد بھی پوری طرح  واضح نہ ہو سکے تو اس میں بیع سلم درست نہ ہو گی ۔

            صورت مسئولہ میں چونکہ مبیع بوقت عقد موجود نہیں  ہوتا اور بعد میں حوالگی پر بھی مبیع کی مقدار معلوم نہیں  کی جاتی اس لیے یہ عقد جائز نہیں نیز بطور متبادل مرغیوں کی آنتوں میں  بیع سلم  بھی نہیں ہو سکتا،  البتہ یہ صورت جائز ہے کہ پہلے صرف بیع کا وعدہ ہو اور بعد میں آنتیں اٹھاتے وقت وزن کر کے قیمت طے کر لی جائے ۔

 

(منها) : أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم، وماله خطر العدم كبيع نتاج النتاج، (بدائع الصنائع، كتاب البيوع ،فصل فيما يرجع الى المعقود عليه، ج:7،ص:542)

(والرابع) أن يكون ‌معلوم ‌القدر بالكيل أو الوزن أو العدد أو الذرع، كذا في البدائع ( الفتاوى الهنديه ، کتاب البيوع ، باب السلم، ج:3، ص:172)

ولا يجوز السلم في العدديات المتفاوتة من الحيوان، والجواهر ۔ ۔ ۔ لتفاوت فاحش بين جوهر وجوهر، ولؤلؤ ولؤلؤ، وحيوان وحيوان، وكذا بين جلد وجلد، ورأس ورأس في الصغر، والكبر، والسمن، والهزال (بدائع الصنائع ، كتاب البيوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المسلم، ج:7، ص:168)


فتویٰ نمبر : 2918/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں