بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اقالہ میں قیمت کی کمی بیشی کرنا


سوال

کسی شخص نے کوئی چیز خریدی اور ثمن ادا کرنے کے بعد مبیع  پر قبضہ کر لیا،کئی  دنوں بعد وہ اس چیز کو  واپس کرتا ہے، تو زر  ثمن کی ادائیگی کے بعد اقالہ میں قیمت کی کمی بیشی پر اثر پڑتا ہے یا نہیں؟

جواب

           شریعت  مطہرہ کی رو سے اگر بائع اور مشتری باہمی رضامندی  سے مبیع کی واپسی پر متفق ہو جا ئیں تو یہ جائز ہے شرعی اصطلاح میں اس کو اقالہ کہا جاتا ہے۔اقالہ کرتے وقت اگر مبیع اپنی حالت پر ہو تو بائع کی  طرف سے ثمن اول میں کمی کا  مطالبہ جائز نہیں،البتہ اگر خریدار کے قبضے میں مبیع میں نقصان پیدا ہوا ہو تو ایسی صورت  میں پیدا شدہ عیب کے بقدر  قیمت کی  کمی جائز ہے۔

 

وتصح بمثل الثمن الأول وشرط الأکثر أوالأقل بلا تعیب و جنس آخر لغو، ولزمه بمثل الثمن الأول۔۔۔قوله :"بلا تعيب" إذ لوتعيب بعده جاز اشتراط الأقل ويجعل الثمن بإزاء ما فات بالعيب ولابد أن يكون النقصان بقدر حصةالفائت،ولا يجوز أن ينقص من الثمن أكثر منه۔(البحرالرائق شرح كنزالدقائق ،كتاب البيع باب الاقالة، جلد:6،ص:173،دارالكتب العلمية بيروت)


فتویٰ نمبر : 2914/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں